LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے تعین کیلئے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس طلب حرمین شریفین کا تحفظ ملک و قوم اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے: وزیراعظم پاکستان اور یورپی یونین کے پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینا ہو گا: ایاز صادق اسحاق ڈار کا کانگو کے صدر اور گنی بساؤ کے سابق صدر سے مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبریں تشویشناک,اہم پریس کانفرنس مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل کے مرکزی دفتر پر فائرنگ، ملزمان فرار حج 2027 کا پورا عمل ڈیجیٹل، 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین درخواستیں دے سکیں گے امریکی سکیورٹی گارنٹی ناقابل اعتبار ہونے پر مکہ دفاعی معاہدہ ہوا: ایران جولائی میں ترسیلاتِ زر 13 فیصد بڑھ گئیں، وزیراعظم کا اظہار اطمینان اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس ایران کو فوجی دباؤ سے زیادہ امریکی اقتصادی پابندیوں کی فکر ہے: امریکا اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال ملک بھر کے بجلی صارفین پر مزید 23 ارب روپے کا بوجھ منتقل کرنے کی تیاری مریم نواز سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے وفد کی ملاقات، جدید نصاب کے فروغ پر تبادلہ خیال

ٹرمپ کا ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا اعلان، نئی پابندیوں کا عندیہ

Web Desk

14 July 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج کی بے پناہ طاقت کی بدولت آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ روانی سے جاری ہے، تاہم ایران کی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے اور ایرانی کارگو لے جانے والے تمام بحری جہازوں پر مکمل ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے امریکی وزیرِ دفاع (وزیرِ جنگ) پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین اور سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عسکری قیادت کی بدولت یہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ایران کے علاوہ تمام ممالک کے جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اپنے ملک کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔ مزید برآں، امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سے کامیاب مذاکرات کے بعد انہوں نے مجوزہ 20 فیصد فیس کے بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ بڑے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کو ترجیح دی ہے، جس کے تحت امریکہ میں تاریخی پیمانے پر خلیجی سرمایہ کاری لائی جائے گی جو لاکھوں نئی اور اعلیٰ ملازمتوں کی تخلیق کا سبب بنے گی۔