جگر کے مریضوں کیلئے آزمائی گئی نئی سیل تھراپی
Web Desk
29 May 2026
لندن: طبی ماہرین نے جگر کے شدید اور خطرناک ترین مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک نئی ’سیل تھراپی‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے طبی دنیا میں لیور فیلر کے مریضوں کے لیے ایک حقیقی اور بڑی امید قرار دیا جا رہا ہے۔
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق، ایک جامع کلینیکل ٹرائل کے دوران یہ نئی سیل تھراپی حیران کن حد تک مؤثر اور جاندار ثابت ہوئی ہے۔ ٹرائل کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن مریضوں کو روایتی طریقہ علاج کے بجائے یہ جدید سیل تھراپی دی گئی، ان میں چار سال کے عرصے کے بعد موت کا امکان یا لیور ٹرانسپلانٹ (جگر کی پیوند کاری) کی ضرورت کا خطرہ عام علاج کروانے والے مریضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھا گیا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جگر میں خود کو دوبارہ بنانے اور صدمات سے بحال کرنے کی ایک قدرتی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن جب مرض حد سے زیادہ بڑھ جائے تو جگر پر شدید زخم اور گہرے داغ پڑ جاتے ہیں، جسے طبی زبان میں ’سیروسس‘ (Cirrhosis) کہا جاتا ہے۔
سیروسس جگر کو اس حد تک ناقابلِ مرمت نقصان پہنچاتا ہے کہ جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جسے ’لیور فیلر‘ کہتے ہیں۔ اب تک ایسے مریضوں کے لیے دنیا بھر میں واحد علاج صرف اور صرف انتہائی مہنگا اور مشکل لیور ٹرانسپلانٹ ہی تصور کیا جاتا تھا۔
ماہرینِ طب کے مطابق، یہ نئی سیل تھراپی اب ان مایوس مریضوں کے لیے ایک انقلابی متبادل بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر اس تھراپی کے حوالے سے آئندہ ہونے والی مزید تحقیقات بھی اسی طرح کامیاب رہیں، تو یہ طریقہ علاج مستقبل قریب میں دنیا بھر کے لاکھوں ایسے مریضوں کی زندگیاں بچانے کا ضامن بن جائے گا جو جگر کے آخری اسٹیج کے امراض سے لڑ رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
29 May 2026
عید پر گوشت کے حد سے زیادہ استعمال سے گریز کریں، ماہرینِ صحت
27 May 2026
چینی سائنس دانوں نے پیس میکر کا متبادل تیار کرلیا
26 May 2026
مٹاپے کیخلاف جی ایل پی-1 ادویات دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟
26 May 2026
سویا اور دالوں کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم کر سکتا ہے: تحقیق
25 May 2026
لاہور میں انسدادِ پولیو مہم کامیاب، مقررہ اہداف سے زائد کامیابی حاصل
25 May 2026
عیدالاضحیٰ کی آمد کیساتھ کانگو وائرس کے خطرات بڑھنے کا خدشہ
25 May 2026
ایبولا وائرس کی نئی قسم کیخلاف ویکسین سے متعلق اہم پیشرفت
23 May 2026