LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم

برطانیہ میں موجود ڈاکٹر روبوٹ کے ذریعے 1500 میل دور موجود مریض کا کامیاب آپریشن کرنے میں کامیاب

Web Desk

6 March 2026

طبی دنیا میں ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں لندن میں موجود سرجن نے جبرالٹر میں موجود مریض کا دور بیٹھ کر کامیاب آپریشن کر دیا۔
یہ منفرد سرجری جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن بنائی گئی جس کے ذریعے مثانے کے کینسر میں مبتلا 62 سالہ مریض کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔
جبرالٹر کے سینٹ برنارڈ اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں چار بازوؤں والے جدید روبوٹ کا استعمال کیا گیا جس میں ایک تھری ڈی کیمرا بھی نصب تھا۔
اس آپریشن کی نگرانی لندن کے علاقے ہارلے اسٹریٹ میں موجود معروف سرجن پروفیسر پروکر ڈسگپتا نے کی، جو لندن کلینک روبوٹک سینٹر آف ایکسیلینس کے سربراہ ہیں۔
پروفیسر پروکر نے لندن میں موجود کنسول کے ذریعے ٹوومائی روبوٹک سسٹم کو ہدایات دیں، جسے مائیکرو پورٹ کمپنی نے تیار کیا ہے۔ روبوٹ نے سرجن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مریض کے جسم سے متاثرہ مثانہ نکال دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن سے بھیجی جانے والی ہدایات صرف 0.06 سیکنڈ میں جبرالٹر میں موجود روبوٹ تک پہنچ رہی تھیں۔ آپریشن کے بعد مریض کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہا ہے۔
مریض کا کہنا تھا کہ اگر یہ جدید طریقہ استعمال نہ کیا جاتا تو اسے آپریشن کے لیے لندن جانا پڑتا اور وہاں اسپتال کی لمبی ویٹنگ لسٹ میں کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔
پروفیسر پروکر ڈسگپتا کے مطابق یہ کامیاب سرجری طبی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے اور مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں موجود مریضوں کا علاج آسان ہو سکے گا۔
اس سرجری کے دوران لندن میں موجود کنسول کو فائبر آپٹک نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا تھا جبکہ بیک اپ کے طور پر 5G کنکشن بھی تیار رکھا گیا تھا۔