LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی: وزیراعظم پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب صدر آصف علی زرداری کا ماؤ زے تُنگ کے آبائی شہر کا دورہ؛ عظیم چینی رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا بجلی صارفین پر مزید بوجھ؛ قیمتوں میں 26 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان، نیپرا آج سماعت کرے گی آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اجلاس 8 مئی کو طلب؛ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار اقوام متحدہ میں کانفرنس: امریکا اور ایران کے درمیان تندو تیز جملوں کا تبادلہ ایران نے 2 بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کے امریکی اقدام کو مسلح ڈکیتی قرار دیدیا امریکا نے مزید مذاکرات کی درخواست کی جس پر غور کررہے ہیں: عباس عراقچی واشنگٹن فائرنگ کیس، ملزم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب نے ٹیکساس میں آئرن مین چیلنج مکمل کر کے تاریخ رقم کر دی روس کی امریکا اورایران کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش ایران قیادت کمزورہوچکی، موجودہ صورتحال سے نکلنے کےلیےسنجیدہ ہے، امریکی وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، امن کیلیے سفارتی کردارجاری رکھنے کا عزم پنجاب میں لڑکی کی شادی کی عمر کم سے کم 18 سال مقرر، اسمبلی میں بل منظور

لاہور میں تیار ’سپر کمپیوٹر‘ 94 کروڑ میں نیلامی کیلیے پیش

Web Desk

27 April 2026

سترہویں صدی کا ایک شاہکار پیتل کا اسطرلاب، جسے قدیم دور کا ’فلکیاتی کمپیوٹر‘ یا ’اسمارٹ فون‘ بھی کہا جا سکتا ہے، جے پور کے شاہی خاندان کے نجی مجموعے سے نکل کر اب عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ نایاب آلہ 24 سے 29 اپریل تک لندن میں سوتھبیز (Sotheby’s) کی گیلریوں میں نمائش اور نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ خاص اسطرلاب 17ویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا، جو اس دور میں سائنسی آلات کی تیاری کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اسے دو بھائیوں، قائم محمد اور محمد مقیم نے مغل امیر ’آقا افضل‘ کے لیے تیار کیا تھا، جنہوں نے شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں اہم خدمات انجام دیں۔ ریکارڈ کے مطابق، ان دونوں بھائیوں نے مل کر صرف دو اسطرلاب بنائے تھے، جن میں سے یہ ایک ہے۔ آکسفورڈ سینٹر فار ہسٹری آف سائنس سے وابستہ ڈاکٹر فیدریکا گیگانتے اس آلے کا موازنہ آج کے اسمارٹ فون سے کرتی ہیں، کیونکہ یہ محض ایک دھاتی ٹکڑا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ مشین تھی:اس کی مدد سے طلوع و غروبِ آفتاب کا درست وقت معلوم کیا جاتا تھا۔ عمارتوں کی اونچائی، کنویں کی گہرائی اور مختلف فاصلوں کا حساب لگانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس آلے کے ذریعے مستقبل کی پیشگوئی اور زائچے (Horoscopes) بھی تیار کیے جاتے تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اسطرلاب ہے اور طویل عرصے تک جے پور کے مہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم کے شاہی ذخیرے کی زینت بنا رہا۔ ماہرین کے مطابق، یہ آلہ مغل دور کی سائنسی ترقی اور فنی مہارت کا ایک بے مثال نمونہ ہے، جس کی نیلامی میں عالمی سطح پر بڑے خریداروں کی دلچسپی متوقع ہے۔