لاہور میں تیار ’سپر کمپیوٹر‘ 94 کروڑ میں نیلامی کیلیے پیش
Web Desk
27 April 2026
سترہویں صدی کا ایک شاہکار پیتل کا اسطرلاب، جسے قدیم دور کا ’فلکیاتی کمپیوٹر‘ یا ’اسمارٹ فون‘ بھی کہا جا سکتا ہے، جے پور کے شاہی خاندان کے نجی مجموعے سے نکل کر اب عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ نایاب آلہ 24 سے 29 اپریل تک لندن میں سوتھبیز (Sotheby’s) کی گیلریوں میں نمائش اور نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ خاص اسطرلاب 17ویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا، جو اس دور میں سائنسی آلات کی تیاری کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اسے دو بھائیوں، قائم محمد اور محمد مقیم نے مغل امیر ’آقا افضل‘ کے لیے تیار کیا تھا، جنہوں نے شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں اہم خدمات انجام دیں۔ ریکارڈ کے مطابق، ان دونوں بھائیوں نے مل کر صرف دو اسطرلاب بنائے تھے، جن میں سے یہ ایک ہے۔ آکسفورڈ سینٹر فار ہسٹری آف سائنس سے وابستہ ڈاکٹر فیدریکا گیگانتے اس آلے کا موازنہ آج کے اسمارٹ فون سے کرتی ہیں، کیونکہ یہ محض ایک دھاتی ٹکڑا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ مشین تھی:اس کی مدد سے طلوع و غروبِ آفتاب کا درست وقت معلوم کیا جاتا تھا۔ عمارتوں کی اونچائی، کنویں کی گہرائی اور مختلف فاصلوں کا حساب لگانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس آلے کے ذریعے مستقبل کی پیشگوئی اور زائچے (Horoscopes) بھی تیار کیے جاتے تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اسطرلاب ہے اور طویل عرصے تک جے پور کے مہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم کے شاہی ذخیرے کی زینت بنا رہا۔ ماہرین کے مطابق، یہ آلہ مغل دور کی سائنسی ترقی اور فنی مہارت کا ایک بے مثال نمونہ ہے، جس کی نیلامی میں عالمی سطح پر بڑے خریداروں کی دلچسپی متوقع ہے۔
متعلقہ عنوانات
لڑکی نے 60 روز تک سو کر 28 لاکھ روپے سے زائد کمالیے
8 November 2026
شارجہ بک فیئر میں جرمن فنکار کا چلتا پھرتا درخت بچوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
7 November 2026
خاتون کاروباری شخصیت کا ملازماؤں کو مہنگے فولڈ ایبل آئی فونز کا تحفہ
7 November 2026
بھارت: 50 سالہ شخص دانت صاف کرتے ہوئے برش ہی نگل گیا
6 November 2026
اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹرمینل میں بندر گھس آیا: مسافروں میں حیرت
6 November 2026
10 سال سے زائد کی محنت، امریکی شہری نے دنیا کی سب سے بڑی ربڑ بینڈ بال بنا ڈالی
4 November 2026
90 سالہ جاپانی باڈی بلڈر کی فٹنس نے دنیا کو حیران کردیا
4 November 2026
مرغیاں کھا کھا کر باز موٹی، ماہرین نے ڈائٹ شروع کروا دی
4 November 2026