LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عراقی ملیشیا گروپوں کی اردن پر حملے کی منصوبہ بندی، اردن کی جوابی کارروائی کی وارننگ ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں کا نتیجہ امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی ہوگی، محمد مخبر محسن نقوی صاحب سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، خواجہ آصف امریکی حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا، ایران نے ترکیہ اور سعودیہ کو آگاہ کر دیا پیرو میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، سفر کرنے والے تمام 13 افراد ہلاک ایران کا خلیجی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی سہولت کاری پر سخت انتباہ مزید جنگی جہاز نہ ملے تو امریکا یا اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: امریکی جنرل نے خبردار کردیا امریکی ویزا بانڈ پروگرام کے حوالے سے اہم فیصلہ میں ایرانی کرنسی کو تباہ کر رہا ہوں، صدر ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر پیغام صدر پزشکیان کا ایرانی قوم کو جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے پر خراجِ تحسین محسن نقوی کے خیالات سے کم و بیش اتفاق، اصلاحات کا فورم پارلیمنٹ ہے: خواجہ آصف شکارپور کی قومی شاہراہ پر ہولناک حادثہ، 2 نوجوان جاں بحق، ٹینکر ڈرائیور گرفتار آزاد کشمیر میں حکومت سازی : ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا تیسرا مذاکراتی دور مکمل شکارپور میں ٹول ٹیکس تنازع پر بس ڈرائیور نے ملازم کو کچل دیا ہاکی ٹیسٹ سیریز: گرین شرٹس نے جنوبی کوریا کو مسلسل دوسری بار شکست دے دی

لاہور میں تیار ’سپر کمپیوٹر‘ 94 کروڑ میں نیلامی کیلیے پیش

Web Desk

27 April 2026

سترہویں صدی کا ایک شاہکار پیتل کا اسطرلاب، جسے قدیم دور کا ’فلکیاتی کمپیوٹر‘ یا ’اسمارٹ فون‘ بھی کہا جا سکتا ہے، جے پور کے شاہی خاندان کے نجی مجموعے سے نکل کر اب عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ نایاب آلہ 24 سے 29 اپریل تک لندن میں سوتھبیز (Sotheby’s) کی گیلریوں میں نمائش اور نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ خاص اسطرلاب 17ویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا، جو اس دور میں سائنسی آلات کی تیاری کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اسے دو بھائیوں، قائم محمد اور محمد مقیم نے مغل امیر ’آقا افضل‘ کے لیے تیار کیا تھا، جنہوں نے شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں اہم خدمات انجام دیں۔ ریکارڈ کے مطابق، ان دونوں بھائیوں نے مل کر صرف دو اسطرلاب بنائے تھے، جن میں سے یہ ایک ہے۔ آکسفورڈ سینٹر فار ہسٹری آف سائنس سے وابستہ ڈاکٹر فیدریکا گیگانتے اس آلے کا موازنہ آج کے اسمارٹ فون سے کرتی ہیں، کیونکہ یہ محض ایک دھاتی ٹکڑا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ مشین تھی:اس کی مدد سے طلوع و غروبِ آفتاب کا درست وقت معلوم کیا جاتا تھا۔ عمارتوں کی اونچائی، کنویں کی گہرائی اور مختلف فاصلوں کا حساب لگانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس آلے کے ذریعے مستقبل کی پیشگوئی اور زائچے (Horoscopes) بھی تیار کیے جاتے تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اسطرلاب ہے اور طویل عرصے تک جے پور کے مہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم کے شاہی ذخیرے کی زینت بنا رہا۔ ماہرین کے مطابق، یہ آلہ مغل دور کی سائنسی ترقی اور فنی مہارت کا ایک بے مثال نمونہ ہے، جس کی نیلامی میں عالمی سطح پر بڑے خریداروں کی دلچسپی متوقع ہے۔