LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت

چین میں 14 سالہ لڑکے کا حیران کن کارنامہ

Web Desk

27 April 2026

چین سے تعلق رکھنے والے ایک 14 سالہ طالب علم، چی جیانگ پنگ نے اپنی غیر معمولی تکنیکی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک فعال ٹربو جیٹ انجن تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سائنسی کامیابی نے نہ صرف سوشل میڈیا پر دھوم مچائی ہے بلکہ ہوا بازی کے ماہرین کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔

کاغذی جہازوں سے جیٹ انجن تک کا سفر: بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، چی جیانگ پنگ کی ہوا بازی (Aviation) میں دلچسپی بچپن میں کاغذی جہازوں کے اڑانے اور ہوا کے اصولوں کو سمجھنے سے شروع ہوئی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کئی گھنٹے ایروڈائنامکس کی پیچیدہ کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے، جس نے ان کے سائنسی تجسس کو ایک نئی سمت دی۔

تکنیکی مہارت اور ڈیزائننگ: اس کم عمر سائنسدان نے محض مطالعہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جدید انجینئرنگ ٹولز پر بھی دسترس حاصل کی:

  • سافٹ ویئر کا استعمال: انہوں نے کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن (CAD) سافٹ ویئرز سیکھے تاکہ انجن کے دو بعدی (2D) اور تین بعدی (3D) ماڈلز خود تیار کر سکیں۔

  • انجینئرنگ تجزیہ: ہوا کے دباؤ اور درجہ حرارت جیسے پیچیدہ عوامل کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے اپنے منصوبے کا خاکہ تیار کیا۔

  • تخلیقی سوچ: چی جیانگ پنگ کے مطابق، انہوں نے انٹرنیٹ سے رہنمائی ضرور لی لیکن کسی بھی ڈیزائن کو نقل (Copy) کرنے کے بجائے اپنا منفرد ماڈل تخلیق کیا۔

ناکامی سے کامیابی کا سبق: چی جیانگ پنگ نے بتایا کہ ان کا پہلا پروٹوٹائپ چھ ماہ کی محنت کے بعد تیار ہوا تھا، جو ابتدائی آزمائش میں ناکام رہا۔ تاہم، انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے اس ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ “براہِ راست نقل کرنے سے سیکھنے کا عمل محدود ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کو ترجیح دی۔”

آج کل یہ باصلاحیت طالب علم اپنے جیٹ انجن کے ایک جدید اور بہتر ورژن پر کام کر رہا ہے، جس کی آئندہ آزمائش جلد متوقع ہے۔ سائنسی حلقے اسے چین کے مستقبل کے ہوا بازی کے شعبے کے لیے ایک اہم اثاثہ قرار دے رہے ہیں۔