LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر ٹرمپ کا جنگ بندی ختم کرنے اور ایران پر دوبارہ حملوں کا عندیہ امریکی ایوانِ نمائندگان سے ہوم لینڈ سیکیورٹی فنڈنگ بل منظور، شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی راہ ہموار پاکستانی جہاز 8 کروڑ لیٹر ڈیزل لے کر آبنائے ہرمز عبور کر گیا پیٹرول 6 روپے 51 پیسےمہنگا، نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کی خبریں بے بنیاد، سپلائی بلا تعطل جاری رہے گی: اوگرا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے  750 ملین ڈالر کے یورو بانڈز موصول، پاکستان کے  زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے تجاوزکرگئے، وزارت خزانہ امریکانے حملے کیے توجواب طویل اوردردناک ہوگا، پاسداران انقلاب موٹرسائیکل سواروں، پبلک وگڈزٹرانسپورٹ کےلیے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع فسادی غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانی کی تہہ کے سوا کچھ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم

100 سال قبل انگریز سرکار کو قرضہ دینے والے خاندان کا برطانیہ پر مقدمہ

Web Desk

5 March 2026

یہ واقعہ واقعی دلچسپ تاریخی حوالہ ہے۔ 1917 میں سیٹھ جمعہ لال رتھیا نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے قرض دیے۔ اس وقت یہ رقم نہایت بڑی تھی، اور اس سے کئی جاگیروں یا سرکاری منصوبے متاثر ہو سکتے تھے۔

رتھیا خاندان کے مطابق یہ رقم آج تک واپس نہیں ہوئی۔ پوتے وویک رتھیا نے بتایا کہ حال ہی میں خاندان نے اپنے پرانے کاغذات، وصیت نامے اور خطوط میں وہ ثبوت دریافت کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قرض ایک “وار لون” (War Loan) کے طور پر لیا گیا تاکہ بھوپال ریاست میں انتظامی امور بہتر ہوں۔

وویک رتھیا کے مطابق:

’’میرے دادا نے 1917 میں برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے قرض دیے تھے۔ آج ایک صدی گزرنے کے باوجود وہ رقم واپس نہیں ملی۔‘‘

خاندان اب برطانوی حکومت کو قانونی نوٹس بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ یہ تاریخی قرض واپس لیا جا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے دعوے پیچیدہ ہوتے ہیں، مگر مستند دستاویزات کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیر معمولی قانونی بحث پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً اگر معاملہ نوآبادیاتی دور کے معاہدے سے جڑا ہو۔

تاریخی پس منظر اور خاندان کی موجودہ حیثیت

سیٹھ جمعہ لال کا انتقال 1937 میں ہوا، مگر قرض کا معاملہ بعد میں پسِ پشت چلا گیا۔رتھیا خاندان آزاد ہند سے پہلے سہور اور بھوپال کے معزز اور امیر خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔آج بھی ان کے پاس بھوپال، اندور اور سہور میں جائدادیں ہیں، اور وہ کھیتی باڑی، ہوٹلنگ اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں شامل ہیں۔خاندان کا دعویٰ ہے کہ اگر 35 ہزار روپے کو آج کے حساب سے سونے یا مالی قدر میں تبدیل کیا جائے تو یہ کروڑوں روپے کے برابر بنتی ہے۔یہ واقعہ نہ صرف تاریخی اور مالی اہمیت رکھتا ہے بلکہ نوآبادیاتی دور کے قرضوں اور ان کے آج تک اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے