LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی

بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا نقصان ہوا ، نیپرا رپورٹ جاری

Web Desk

25 February 2026

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ برائے 2024-25 جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنیوں نے ایک سال کے دوران قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

رپورٹ کے مطابق یہ نقصان ترسیل و تقسیم کے نقصانات اور بجلی بلوں کی کم وصولیوں کی مد میں ہوا۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ترسیل اور تقسیم کے شعبے میں 265 ارب روپے جبکہ کم ریکوری کی مد میں 207 ارب روپے کا خسارہ سامنے آیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقسیم کار کمپنیاں ترسیل و تقسیم کے نقصانات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، جس کے باعث شعبہ توانائی کو مستقل چیلنجز کا سامنا ہے۔

اتھارٹی نے بجلی بلوں کی کم وصولیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان نقصانات کے نتیجے میں گردشی قرض میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جو قومی معیشت پر بوجھ بنتا جا رہا ہے۔