LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت اور اے آئی کا کردار کلیدی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پی سی بی نے نیشنل چیمپئنز کپ کے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کر دیا تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 15 زخمی میں مذاکرات کی دعوتیں دے دے کر تھک گیا ہوں، اپوزیشن بات چیت چاہتی ہی نہیں چین نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا مون سون کے بعد خستہ حال عمارتوں کا سروے کرایا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت خون میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی دل کے شدید دورے کے خطرے سے منسلک، نئی تحقیق حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع وزیراعظم کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی، ملک کیلئے خصوصی دعائیں سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں شدید مشکلات سے دوچار: میڈیا رپورٹ ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہے: عالمی شپنگ انڈسٹریز

فالج سے تحفظ فراہم کرنے والی بہترین غذا

Web Desk

7 February 2026

اگر کوئی فالج جیسے جان لیوا مرض کے خطرے کو کم کرنا چاہتا ہے تو ماہرین ایک مخصوص طرزِ خوراک کو معمول بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

طبی جریدے نیورولوجی اوپن ایسسز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق بحیرۂ روم کے خطے سے منسوب غذا، جسے میڈیٹرینیئن ڈائٹ کہا جاتا ہے، خواتین میں فالج کی مختلف اقسام کے امکانات کو نمایاں حد تک گھٹا سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک میں عام طور پر استعمال ہونے والی یہ غذا پھلوں، سبزیوں، ثابت اناج، گری دار میووں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل ہوتی ہے، جبکہ سرخ گوشت کا استعمال محدود رکھا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ متوازن غذائی امتزاج نہ صرف فالج کی عام قسم بلکہ دماغ میں خون رسنے یعنی برین ہیمرج کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس تصور کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ صحت مند غذائی عادات فالج سے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ خاص طور پر برین ہیمرج جیسے فالج کی قسم پر غذائی اثرات کے حوالے سے ماضی میں تحقیق نسبتاً کم رہی ہے، اس لیے یہ مطالعہ اہمیت کا حامل ہے۔اس تحقیق میں ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 53 برس تھی اور تحقیق کے آغاز کے وقت انہیں فالج کی کوئی سابقہ تاریخ نہیں تھی۔شرکاء سے ابتدا میں سوالناموں کے ذریعے ان کی روزمرہ غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں، جس کے بعد 21 برس تک ان کی صحت کی نگرانی کی گئی۔ اس عرصے کے دوران 4 ہزار 83 خواتین کو فالج کا سامنا کرنا پڑا۔تمام ممکنہ عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ جو خواتین باقاعدگی سے میڈیٹرینیئن ڈائٹ اپناتی رہیں، ان میں فالج کی مختلف اقسام کا خطرہ 16 سے 25 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ماہرین نے یاد دلایا کہ فالج دنیا بھر میں اموات اور مستقل معذوری کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، تاہم متوازن غذا کے ذریعے اس مہلک مرض کے امکانات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کاروں کے مطابق اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن یہ جاننا ابھی باقی ہے کہ یہ مخصوص طرزِ خوراک کن حیاتیاتی عوامل کے ذریعے فالج سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تاکہ مستقبل میں مزید مؤثر غذائی رہنما اصول مرتب کیے جا سکیں۔