LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت شادی کی تقریب میں حملہ: ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا تحقیقات کیلئے عالمی عدالت سے رجوع روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد دے رہا: برطانوی میڈیا جرمنی میں ڈرون حملے کی کوشش، یورپی یونین کا روس پر دباؤ بڑھانے کا اعلان ایران نے شادی کی تقریب پر حملے کو واشنگٹن کی اخلاقی گراوٹ کی ایک اور مثال قرار دیدیا امریکی حملوں میں 19 افراد شہید، 108 زخمی ہوئے: ایرانی وزیر صحت کی تصدیق ایران اسرائیل کیساتھ دوبارہ جنگ سے پہلے امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا: عالمی تجزیہ کار صومالی تنظیم الشباب اور یمنی حوثیوں کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی اطلاعات میری ٹائم اتحاد میں شمولیت کیلئے ضروری مراحل مکمل کر لیے گئے، سعودی وزارت دفاع جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 900 سے زائد فلسطینی شہید: وزارتِ صحت جغرافیائی، سیاسی کشیدگی: 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے برطانیہ منتقل

نوجوان مسلم اسکالر شمائل ندوی نے اسلام مخالف جاوید اختر کو لاجواب کردیا

Web Desk

22 December 2025

بھارت کے معروف شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر اور اسلامی اسکالر مفتی شمائل ندوی کے درمیان خدا کے وجود کے موضوع پر ایک فکری اور علمی مباحثہ کنسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ہوا، جس نے نہ صرف تقریب میں موجود افراد بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا۔

تفصیلات کے مطابق تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس مباحثے کی میزبانی صحافی سوربھ دویدی نے کی، اور اس کا عنوان تھاکیا خدا موجود ہے؟”۔ مباحثے میں فلسفہ، اخلاقیات، سائنس اور انسانی تجربات کے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

مباحثے کے دوران جاوید اختر نے ایک قادر مطلق اور مہربان خدا کے تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے انسانی مصائب، خصوصاً غزہ میں جاری جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک باقدرت خدا پر ایمان کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے جبکہ بچوں کی ہلاکتیں اور انسانی دکھ روزمرہ کی حقیقت ہیں۔

جاوید اختر نے کہا کہ اگر خدا ہر جگہ موجود اور قادر مطلق ہے تو وہ غزہ میں بھی موجود ہے، ایسے دکھ دیکھ کر مہربان خدا کے وجود کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کے اس بیان پر بعض مسلم حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا، جہاں کچھ نے انہیں بے حس اور اشتعال انگیز قرار دیا، جبکہ دیگر نے ان کے حق میں موقف اختیار کیا کہ مذہبی عقائد پر سوال اٹھانا اخلاقی اور فکری دلیل کے دائرے میں آتا ہے۔