LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آسٹرین ایئر لائنز کی پرواز میں بم کی اطلاع، طیارے کی بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید جام شہادت نوش کر گئے ملتان  تیز رفتار کار بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرانے کے بعد دیوار سے جا ٹکرائی حادثہ میں  5 افراد جاں بحق. روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کیلئے مذاکرات کر رہا ہوں: امریکی صدر حوثی باغیوں کی سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کے قریب انخلا کی نئی وارننگ جاری یمنی افواج کی پیش قدمی جاری، شدید جھڑپیں، سناماہ اور سراری محاذوں پر کامیابی کا دعویٰ ایران کا خطے میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی ترسیل کو کنٹرول کرنے کیلئے نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان روسی وزیر خارجہ آج تہران کا دورہ کرینگے، دو طرفہ معاہدوں کا جائزہ لیا جائیگا ہمیں پر امن مظاہرین اور تخریب کاروں میں فرق کرنا ہوگا: فرانسیسی صدر امریکی حکام کا مقبوضہ مغربی کنارے کے مسیحی فلسطینی گاؤں طیبہ کا دورہ امارات کی جانب سے غزہ میں 60 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان پہنچا دیا گیا آسٹریلین ایئر لائنز کی پرواز میں بم کی اطلاع، طیارے کی بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ البرٹا کے فوجی اڈے میں آتشزدگی، 4 کینیڈین فوجی ہلاک، درجنوں افراد زخمی امریکا نے یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع کردی: صدر زیلنسکی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بریسٹ کینسر سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے

نوجوان مسلم اسکالر شمائل ندوی نے اسلام مخالف جاوید اختر کو لاجواب کردیا

Web Desk

22 December 2025

بھارت کے معروف شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر اور اسلامی اسکالر مفتی شمائل ندوی کے درمیان خدا کے وجود کے موضوع پر ایک فکری اور علمی مباحثہ کنسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ہوا، جس نے نہ صرف تقریب میں موجود افراد بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا۔

تفصیلات کے مطابق تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس مباحثے کی میزبانی صحافی سوربھ دویدی نے کی، اور اس کا عنوان تھا “کیا خدا موجود ہے؟”۔ مباحثے میں فلسفہ، اخلاقیات، سائنس اور انسانی تجربات کے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

مباحثے کے دوران جاوید اختر نے ایک قادر مطلق اور مہربان خدا کے تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے انسانی مصائب، خصوصاً غزہ میں جاری جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک باقدرت خدا پر ایمان کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے جبکہ بچوں کی ہلاکتیں اور انسانی دکھ روزمرہ کی حقیقت ہیں۔

جاوید اختر نے کہا کہ اگر خدا ہر جگہ موجود اور قادر مطلق ہے تو وہ غزہ میں بھی موجود ہے، ایسے دکھ دیکھ کر مہربان خدا کے وجود کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کے اس بیان پر بعض مسلم حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا، جہاں کچھ نے انہیں بے حس اور اشتعال انگیز قرار دیا، جبکہ دیگر نے ان کے حق میں موقف اختیار کیا کہ مذہبی عقائد پر سوال اٹھانا اخلاقی اور فکری دلیل کے دائرے میں آتا ہے۔