LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی حکام چاروں صوبوں میں ترقی ہونی چاہیے، کوئی پاکستان میں مداخلت کرے گا تو بھرپور جواب دیں گے: چیئرمین سینیٹ امریکا کا آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری کابینہ کمیٹی اجلاس: قانون سازی کیلئے وزارتوں کو ترامیم اور سفارشات بھجوانے کی ہدایت ایرانی فوج کا آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ثالث ملکوں کے نمائندوں کے امریکا، ایران سے الگ الگ مذاکرات متوقع بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں: علی امین گنڈاپور حسن نصراللہ مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای 4 اکتوبر کو احتجاج کیلئے پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں: عطا تارڑ سٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار

راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد تنازع کیس میں ریلیف مل گیا

Web Desk

29 May 2026

لاہور: وراثتی جائیداد کے دیرینہ تنازع کیس میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے، جہاں لاہور ہائیکورٹ نے انہیں ایک بڑا قانونی ریلیف فراہم کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے راحت فتح علی خان کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ ہائیکورٹ نے کورٹ فیس جمع نہ کرانے کی تکنیکی بنیاد پر راحت فتح علی خان کی اپیل خارج کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ یکسر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے گلوکار کی اپیل کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق راحت فتح علی خان نے فیصل آباد میں واقع 1 کنال 9 مرلہ ڈبل اسٹوری مکان پر قبضے کی تصدیق کے لیے سول کورٹ میں دعویٰ دائر کر رکھا تھا۔ سول عدالت نے 14 مئی 2019 کو راحت فتح علی خان کے خلاف ڈگری جاری کی تھی، جس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کو ٹرائل کورٹ (سیشن عدالت) میں چیلنج کیا۔ تاہم، ٹرائل کورٹ نے محض 15 ہزار روپے کی کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر تکنیکی بنیادوں پر ان کی اپیل خارج کر دی تھی، جس کے خلاف گلوکار نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔