LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد تنازع کیس میں ریلیف مل گیا

Web Desk

29 May 2026

لاہور: وراثتی جائیداد کے دیرینہ تنازع کیس میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے، جہاں لاہور ہائیکورٹ نے انہیں ایک بڑا قانونی ریلیف فراہم کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے راحت فتح علی خان کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ ہائیکورٹ نے کورٹ فیس جمع نہ کرانے کی تکنیکی بنیاد پر راحت فتح علی خان کی اپیل خارج کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ یکسر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے گلوکار کی اپیل کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق راحت فتح علی خان نے فیصل آباد میں واقع 1 کنال 9 مرلہ ڈبل اسٹوری مکان پر قبضے کی تصدیق کے لیے سول کورٹ میں دعویٰ دائر کر رکھا تھا۔ سول عدالت نے 14 مئی 2019 کو راحت فتح علی خان کے خلاف ڈگری جاری کی تھی، جس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کو ٹرائل کورٹ (سیشن عدالت) میں چیلنج کیا۔ تاہم، ٹرائل کورٹ نے محض 15 ہزار روپے کی کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر تکنیکی بنیادوں پر ان کی اپیل خارج کر دی تھی، جس کے خلاف گلوکار نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔