LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن

Web Desk

20 September 2026

انسانی جسم کا انتہائی حساس عضو آنکھیں حسن و آرائش کے غیر محتاط طریقوں سے شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹیو سرجنز (ESCRS) کی 44 ویں کانگریس میں یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین امراضِ چشم نے ایک اہم تحقیقی رپورٹ پیش کی ہے، جس کے مطابق مصنوعی پلکیں (Eyelash Extensions) لگوانے سے آنکھوں میں مائٹس (طفیلی کیڑے) کی افزائش اور بینائی کی پیچیدگیوں کا شدید خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر ٹیٹیانا ژمد کی سربراہی میں 345 خواتین پر کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ باقاعدگی سے مصنوعی پلکیں استعمال کرنے والی 96 فیصد خواتین کی پلکوں میں ‘ڈیموڈیکس’ (Demodex) نامی خوردبینی کیڑے پائے گئے۔

طبی ماہرین کے مطابق مصنوعی پلکیں چپکانے کے لیے استعمال ہونے والے خشک گوند میں جلد کے مردہ خلیے اور تیل جمع ہو جاتا ہے، جو ان مائٹس کی بہترین غذا بنتا ہے۔ یہ کیڑے آنکھوں کے نم رکھنے والے غدود کو بلاک کر دیتے ہیں، جس سے آنکھوں میں شدید خارش، جلن، سوجن، چھلکے دار جلد اور بینائی کا دھندلا پن جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ برطانيہ میں ہر ہفتے تقریباً 1 لاکھ 29 ہزار مصنوعی پلکیں لگوانے کے سیشنز ہوتے ہیں، جہاں مصنوعی ریشوں کے باریک تار گوند سے چپکائے جاتے ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی پلکیں ان مائٹس کو قدرتی طور پر جھڑنے نہیں دیتیں اور ان کی تشخیص کو بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔ ڈاکٹر ژمد نے مصنوعی پلکیں استعمال کرنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دن میں دو بار مخصوص برش اور نرم کلینزر سے پلکوں کی صفائی کو یقینی بنائیں تاکہ شدید انفیکشن سے بچا جا سکے۔