LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

3 امریکی نیوز اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا

Web Desk

20 September 2026

امریکی صدارتی محل ‘وائٹ ہاؤس’ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ پابندی کے بعد معروف امریکی خبری اداروں سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS NOW) اور پولیٹیکو (Politico) کے صحافیوں کا وائٹ ہاؤس میں داخلہ روک دیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تینوں ذرائع ابلاغ نے الگ الگ بیانات میں تصدیق کی ہے کہ جیسے ہی ان کے نمائندے پریس کوریج کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے تو سیکیورٹی حکام نے ان کے آفیشل پریس پاسز منسوخ کر کے ضبط کر لیے۔

تینوں بڑے خبری اداروں نے اس حکومتی اقدام کے خلاف امریکی آئین کی پہلی ترمیم (First Amendment) کے تحت حاصل آزادیٔ اظہارِ رائے اور آزاد صحافت کے بنیادی حقوق کی پاسداری کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ سی این این نے اپنے بیان میں کہا کہ پریس پاسز کی ضبطی صحافت کے غیر جانبدارانہ کام میں غیر قانونی حکومتی مداخلت کے مترادف ہے، جبکہ ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے بھی اپنے آئینی حقوق کا ہر فورم پر دفاع کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تینوں معتبر اداروں پر ‘جعلی خبریں’ (Fake News) نشر کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔