LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی

’کئی بار خودکشی کی کوشش کی‘، انصاف کی منتظر ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں

Web Desk

10 April 2026

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے لرزہ خیز قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کی راہ تک رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے جہاں پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہیں اب ثنا کی والدہ نے اپنی بے بسی اور شدید ذہنی کرب کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ بیٹی کے بچھڑنے کے غم اور انصاف میں تاخیر نے انہیں اس قدر توڑ دیا ہے کہ وہ اس دوران کئی بار اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے (خودکشی) کی کوشش بھی کر چکی ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ایک سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ 17 سالہ ثنا یوسف، جو اپنی ویڈیوز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں، کے قتل نے پاکستان میں خواتین اور سوشل میڈیا صارفین کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ غمزدہ والدہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے دل کو قرار آ سکے اور کسی دوسری ماں کو ایسے کٹھن حالات سے نہ گزرنا پڑے۔