LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار شنگھائی تعاون تنظیم کا کوآرڈینیشن اجلاس، بھارتی وفد کی اسلام آباد آمد پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم، مالی معاونت میں ملوث ہے: وفاقی وزرا ٹانک: پولیس وین پر دہشت گردوں کا حملہ، فائرنگ سے 3 اہلکار شہید نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے، کچھ بھی ہوسکتا ہے: امیر مقام میر رضا علی قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت ختم، کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث اٹک پل اور راستوں کی بندش کے خلاف کیس امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور آج ہوگا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام چل رہا ہے،طارق فضل چوہدری پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل عازمینِ حج کی سہولت کے لیے پاک حج ایپ میں متعدد نئے فیچرز متعارف پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے

’کئی بار خودکشی کی کوشش کی‘، انصاف کی منتظر ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں

Web Desk

10 April 2026

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے لرزہ خیز قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کی راہ تک رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے جہاں پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہیں اب ثنا کی والدہ نے اپنی بے بسی اور شدید ذہنی کرب کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ بیٹی کے بچھڑنے کے غم اور انصاف میں تاخیر نے انہیں اس قدر توڑ دیا ہے کہ وہ اس دوران کئی بار اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے (خودکشی) کی کوشش بھی کر چکی ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ایک سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ 17 سالہ ثنا یوسف، جو اپنی ویڈیوز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں، کے قتل نے پاکستان میں خواتین اور سوشل میڈیا صارفین کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ غمزدہ والدہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے دل کو قرار آ سکے اور کسی دوسری ماں کو ایسے کٹھن حالات سے نہ گزرنا پڑے۔