LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
رکاوٹوں کے باعث کام جاری رکھناممکن نہیں، گوادرمیں چینی کمپنی نے فیکٹری بند کردی،تمام ملازمین برطرف ایران کی نئی تجاویزسے مطمئن نہیں ایرانی قیادت کاآپس میں اتحادنہیں، امریکی صدر جنگ میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیاجائے، ایران کا عرب ممالک سے مطالبہ ایران سے جنگ جاری رہے گی یا نہیں؟ اب فیصلہ ٹرمپ کے بجائے کانگریس کرے گی امریکاکو جنگ میں 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے، ایرانی وزیرخارجہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاک ایران فضائی سفر 60 دن بعد بحال، تہران اسلام آباد کی پروازیں شروع

’کئی بار خودکشی کی کوشش کی‘، انصاف کی منتظر ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں

Web Desk

10 April 2026

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے لرزہ خیز قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کی راہ تک رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے جہاں پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہیں اب ثنا کی والدہ نے اپنی بے بسی اور شدید ذہنی کرب کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ بیٹی کے بچھڑنے کے غم اور انصاف میں تاخیر نے انہیں اس قدر توڑ دیا ہے کہ وہ اس دوران کئی بار اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے (خودکشی) کی کوشش بھی کر چکی ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ایک سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ 17 سالہ ثنا یوسف، جو اپنی ویڈیوز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں، کے قتل نے پاکستان میں خواتین اور سوشل میڈیا صارفین کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ غمزدہ والدہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے دل کو قرار آ سکے اور کسی دوسری ماں کو ایسے کٹھن حالات سے نہ گزرنا پڑے۔