LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی

’کئی بار خودکشی کی کوشش کی‘، انصاف کی منتظر ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں

Web Desk

10 April 2026

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے لرزہ خیز قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کی راہ تک رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے جہاں پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہیں اب ثنا کی والدہ نے اپنی بے بسی اور شدید ذہنی کرب کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ بیٹی کے بچھڑنے کے غم اور انصاف میں تاخیر نے انہیں اس قدر توڑ دیا ہے کہ وہ اس دوران کئی بار اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے (خودکشی) کی کوشش بھی کر چکی ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ایک سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ 17 سالہ ثنا یوسف، جو اپنی ویڈیوز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں، کے قتل نے پاکستان میں خواتین اور سوشل میڈیا صارفین کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ غمزدہ والدہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے دل کو قرار آ سکے اور کسی دوسری ماں کو ایسے کٹھن حالات سے نہ گزرنا پڑے۔