LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا معاہدے کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کی اجازت دی جائے گی، امریکی اخبار برطانوی پارلیمنٹ کا جنگ بندی کیلئے سفارتی کامیابی پر پاکستان کو زبردست خراج تحسین امریکی دباؤ نظر انداز: اسرائیل کی جنوبی لبنان میں بمباری، 4 افراد شہید ایم او یو میں واضح کہا ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا: ٹرمپ ایران امریکہ معاہدہ میں پاکستان کا کردار ثالث کا ہے: سکیورٹی ذرائع

زلزلے سے سمندر کی تہہ اوپر اٹھ گئی، خوفناک مناظر

Web Desk

15 June 2026

جنوبی فلپائن کے جزیرے منڈاناؤ میں آنے والے 7.8 شدت کے تباہ کن زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، وہیں سمندر کی جغرافیائی شکل کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ پیر کے روز آنے والے اس طاقتور ترین زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 61 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 40 سے زائد افراد تشنہ لب اور لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ زلزلے کے بعد ایک انتہائی حیران کن اور خوفناک منظر اس وقت سامنے آیا جب بعض ساحلی علاقوں میں سمندر کی تہہ اچانک 2 میٹر تک اوپر اٹھ گئی، جس کے باعث ساحلی پٹی کئی مقامات پر قریباً 200 میٹر تک پھیل گئی اور وہ سمندری علاقے جو برسوں سے گہرے پانی کے نیچے چھپے تھے، یکدم خشک زمین کی صورت میں سطح پر نمایاں ہو گئے۔

فلپائن انسٹیٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی کے ماہرین کے مطابق، کوٹا باٹو ٹرینچ میں زمینی پرتوں کی شدید اور غیر معمولی حرکت نے سرانگانی اور داواؤ آکسیڈنٹل کے ساحلی علاقوں کو اوپر دھکیل دیا، سائنسی اصطلاح میں اس جغرافیائی عمل کو “کوسٹل اپ لفٹ” کہا جاتا ہے۔ اس اچانک تبدیلی کی وجہ سے سمندر کی تہہ چیرنے سے طویل فاصلے تک پھیلی ہوئی مرجان کی چٹانیں (کورل ریفس)، سمندری گھاس کے میدان اور دیگر حساس ترین ماحولیاتی نظام پانی سے باہر آ گئے ہیں۔ پانی کی عدم دستیابی اور شدید تپش کے باعث مرجان تیزی سے مر رہے ہیں، جبکہ ریف فش، سانپ نما مچھلیاں، سیپیاں اور دیگر نایاب آبی جاندار بھی لاکھوں کی تعداد میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

سرکاری سطح پر جاری کردہ تصاویر میں مردہ مچھلیوں اور بے جان مرجانوں کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، جس نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کھلے آسمان تلے گل سڑ جانے والی آبی حیات سے اٹھنے والی شدید بدبو یا زہریلی گیسیں انسانی صحت کے لیے مہلک اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماحولیاتی محکمے کی ٹیموں کا کہنا ہے کہ متاثرہ سمندری علاقے کے مکمل حجم اور نقصانات کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے مزید تفصیلی سروے درکار ہیں، تاہم ابتدائی شواہد اور سائنسی حقائق صاف بتاتے ہیں کہ اس طاقتور زلزلے نے نہ صرف خشکی پر تباہی مچائی بلکہ سمندر کے اندر موجود نازک ماحولیاتی توازن (ایکولوجیکل بیلنس) کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔