LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں کی پولنگ کب ہوگئی، شیڈول کا اعلان کردیا گیا غزہ کی صورتحال پر پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے مشترکہ مذمتی بیان جاری کردیا آبنائے ہرمز امریکی علاقہ بنانے کی بات پر مذاق بھی بڑی غلطی ہے، ایرانی آرمی چیف آزاد کشمیر کی مخصوص نشستیں، نواز شریف نے خواتین امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کرلئے نئے انتظامی یونٹس سے صرف کراچی نہیں، پورے پاکستان کے مسائل حل ہوں گے: مصطفیٰ کمال پٹرولیم لیوی واپس لینے تک حکومت کے خلاف دھرنا جاری رہے گا، حافظ نعیم حکومتی یقین دہانی پر گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال 40 دن کیلئے مؤخر کردی شیخ حسینہ کی حوالگی تک وزیراعظم بھارت کا دورہ نہیں کریں گے: بنگلادیش ایران عسکری و سیاسی محاذوں پر فاتح بن کر ابھرا ہے، باقر قالیباف ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر مون سون کا ایک اور سپیل برسنے کو تیار، 17 سے 21 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی سرگودھا کے 21 نوجوان سعودی عرب میں لا پتہ، اہل خانہ کی حکومت سے مدد کی اپیل صدر مملکت نے سینیٹ کا اجلاس آج طلب کر لیا، اہم قومی امور پر بحث متوقع برآمدات کی ترسیل میں خلل کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں، احسن اقبال بہتر گورننس کیلئے ملک میں مزید انتظامی یونٹس بننے چاہئیں: ماہرین

حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا گیا، امریکی حکام

Web Desk

8 July 2026

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں میں اس کے فضائی دفاعی اور میزائل نظام کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق ان فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے نظام، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں، بحری جہاز شکن کروز میزائلوں اور ڈرون لانچ سائٹس کو مفلوج کرنا تھا۔ جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ان تمام اہداف کا تعلق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے ایرانی حملوں سے تھا، جہاں گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف بحری راستوں کے کنٹرول کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت بحری راستوں کے حوالے سے تنازع چل رہا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ بین الاقوامی تجارتی جہاز اس کی زیرِ نگرانی شمالی بحری راستوں سے گزریں، جبکہ دوسری جانب امریکہ جنوبی راستے کو اختیار کرنے کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔

معاملات اس وقت مزید پیچیدہ ہوئے جب آبنائے ہرمز کے وسط سے گزرنے والے روایتی بحری راستے کو بارودی سرنگوں کی ممکنہ موجودگی کے خدشات کے باعث غیر محفوظ اور ناقابل استعمال قرار دے دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام تصفیہ طلب امور پر ایران اور امریکہ کے درمیان شیڈول مذاکرات میں تفصیلی بات چیت ہونا تھی، تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے کی صورتحال کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔