LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکہ: ہیوسٹن میں امیگریشن حکام کی فائرنگ، گاڑی افسر پر چڑھانے کی کوشش کرنے والا ملزم ہلاک معاہدۂ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا خدشہ پاکستان کے لیے عالمی اعزاز: پاکستانی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں بین الاقوامی تنظیم کی صدر منتخب امریکہ کا ایران پر باقاعدہ فوجی حملہ، متعدد شہر دھماکوں سے گونج اٹھے، عالمی منڈی میں تیل مہنگا حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا گیا، امریکی حکام واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی ختم کر کے مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران سعودی عرب نے بھی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کر دیا ائیل ٹینکروں پر حملہ: امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت انتہائی خطرناک قرار دیدی امریکا مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جائے گا: محسن رضائی امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کردیا ایران نے آبنائے ہرمز میں قطری جہاز پر حملے کے الزام کو مسترد کر دیا آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، برطانوی میری ٹائم ایجنسی ایران کے خلاف طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ ایران میں قشم جزیرے، سیریک، بندر عباس میں دھماکے سنے گئے: ایرانی میڈیا ترکیہ سے پابندیاں ہٹانے جارہے ہیں، ہم دوستوں پر پابندیاں نہیں لگاتے: ڈونلڈ ٹرمپ

معاہدۂ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا خدشہ

Web Desk

8 July 2026

مشرقِ وسطیٰ میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا نازک معاہدۂ جنگ بندی (Ceasefire) شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے، جہاں امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کی ایک نئی اور طاقتور لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی جریدے ‘پولیٹیکو’ کے مطابق، یہ حالیہ کارروائیاں دونوں ممالک کے درمیان نافذ العمل سیز فائر میں دراڑیں پڑنے کا واضح ثبوت ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ یہ نئے فضائی حملے بین الاقوامی آبی گزرگاہ “آبنائے ہرمز” میں ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں پر کیے جانے والے مبینہ حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی یہ کارروائیاں سیز فائر کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں، جس کی پاداش میں تہران کو “بھاری قیمت” چکانی ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی فورسز نے ایران کے اندر کئی اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کی سائٹس اور میزائل لانچرز شامل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تازہ حملوں کے بعد خطے میں جنگ بندی کے مکمل خاتمے اور دوبارہ ایک بڑے فوجی ٹکراؤ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے عالمی سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔