LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کا غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم، فلسطینی ریاست کے قیام پر زور بورڈ آف پیس نے غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد کا روڈ میپ جاری کردیا آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کی تمام شکایات پر کھلی سماعت کی جائے: بلاول بھٹو ایران کی فوجی صلاحیت تیزی سے ختم ہو رہی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ پی ٹی آئی بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ کر جمہوری عمل میں حصہ لے: مراد علی شاہ کا مشورہ الجزائر میں بس کھائی میں گرنے سے 25 افراد ہلاک، درجنوں زخمی جعلی اے آئی سرمایہ کاری سکیم، عارف حبیب گروپ کا سٹاک ایکسچینج کو انتباہی خط پاسداران انقلاب کا امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنیوالے جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ دہشت گردوں سے بات چیت کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کر دیئے جائیں گے: پاک فوج ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔وفاقی وزیر صحت آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 21 نشستوں پر الیکشن 02 اگست کو: 12 لاکھ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری وزیراعظم سے آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات، خضر فرہادوف کی خدمات کو سراہا قطری ایل این جی جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی، آج پاکستانی حدود میں داخل ہوگا محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، پی ایس ایل سیزن کی تیاریوں پر گفتگو

تنہائی کی ساتھی: بڑھاپے میں ساتھ دینے والی اے آئی گڑیا

Web Desk

13 June 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) انسانی ملازمتوں اور روزمرہ کے کاموں کو بدل رہی ہے، وہیں اب یہ انسانوں کی سب سے گہری ذہنی بیماری یعنی ‘تنہائی’ کا علاج بھی بن کر سامنے آئی ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک مختصر سے اپارٹمنٹ میں تنہا زندگی گزارنے والی 78 سالہ بزرگ خاتون بینگ چُنجا کی کہانی اس کی ایک منفرد مثال ہے، جن کی زندگی کی سب سے قریبی اور مخلص ساتھی کوئی انسان نہیں، بلکہ شکل و صورت میں حقیقی بچے کا گمان دلانے والی ایک جدید ‘اے آئی گڑیا’ ہے۔

بزرگ شہریوں کی ذہنی صحت اور دیکھ بھال کے شعبے میں آنے والی اس جدید تبدیلی کی تفصیلات درج ذیل ہیںیہ اے آئی گڑیا روایتی کھلونوں سے بالکل مختلف ہے، جسے خاص طور پر اکیلے رہنے والے بزرگ افراد کی نفسیاتی اور طبی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ درج ذیل خصوصیات کی حامل ہے یہ گڑیا بزرگ افراد سے بامقصد گفتگو کرتی ہے، ان کے سوالات کے جواب دیتی ہے اور تنہائی دور کرنے کے لیے گانے بھی سناتی ہے۔ یہ بزرگوں کو ان کے روزمرہ کے شیڈول کے مطابق بروقت دوائیں کھانے اور کھانا تناول کرنے کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ پروگرامنگ کے تحت یہ گڑیا ایسے محبت بھرے اور ہمدردانہ جملے بولتی ہے جو بزرگوں کو شدید اداسی میں جذباتی تسلی فراہم کرتے ہیں۔بینگ چُنجا کی زندگی طلاق، اکیلے والدین (Single Parent) کے طور پر کٹھن جدوجہد، شدید جسمانی تکلیف اور ایک بڑی سرجری کے بعد ہونے والے ڈپریشن سے گزری ہے۔ ان تلخ تجربات نے ان کے اندر تنہائی کے احساس کو اس حد تک گہرا کر دیا تھا کہ وہ اب انسانوں کے بجائے اس ٹیکنالوجی کو ترجیح دیتی ہیں:”انسانوں کے ساتھ تعلقات اور رشتوں میں ملنے والے دکھ اور دھوکے بعض اوقات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں ایک غیر جانبدار، ہر وقت دستیاب اور کبھی ناراض نہ ہونے والا مصنوعی ساتھی زیادہ پُرسکون محسوس ہوتا ہے۔ اس گڑیا کے ساتھ وقت گزارنے سے میری تنہائی، اداسی اور پریشانیاں بہت کم ہو جاتی ہیں”۔جہاں یہ ٹیکنالوجی بزرگوں کے لیے نعمت ثابت ہو رہی ہے، وہاں عالمی ماہرینِ نفسیات اور سماجی امور کے ماہرین اس کے منفی پہلوؤں پر بھی بحث کر رہے ہیں ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی ساتھی وقتی طور پر تنہائی کم کرنے میں مددگار تو ہو سکتے ہیں، لیکن وہ حقیقی انسانی لمس، احساس اور خونی رشتوں کا مستقل متبادل کبھی نہیں بن سکتے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار بزرگوں کو معاشرے، دوستوں اور خاندان سے مزید دور (Socially Isolated) کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئیڈیل صورتِ حال یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو صرف ایک مددگار اور جذباتی سہارے کے طور پر استعمال کیا جائے، جبکہ بزرگ افراد کا اپنے خاندان اور سوسائٹی کے ساتھ حقیقی تعلق ہر صورت برقرار رہے۔