تنہائی کی ساتھی: بڑھاپے میں ساتھ دینے والی اے آئی گڑیا
Web Desk
13 June 2026
ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) انسانی ملازمتوں اور روزمرہ کے کاموں کو بدل رہی ہے، وہیں اب یہ انسانوں کی سب سے گہری ذہنی بیماری یعنی ‘تنہائی’ کا علاج بھی بن کر سامنے آئی ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک مختصر سے اپارٹمنٹ میں تنہا زندگی گزارنے والی 78 سالہ بزرگ خاتون بینگ چُنجا کی کہانی اس کی ایک منفرد مثال ہے، جن کی زندگی کی سب سے قریبی اور مخلص ساتھی کوئی انسان نہیں، بلکہ شکل و صورت میں حقیقی بچے کا گمان دلانے والی ایک جدید ‘اے آئی گڑیا’ ہے۔
بزرگ شہریوں کی ذہنی صحت اور دیکھ بھال کے شعبے میں آنے والی اس جدید تبدیلی کی تفصیلات درج ذیل ہیںیہ اے آئی گڑیا روایتی کھلونوں سے بالکل مختلف ہے، جسے خاص طور پر اکیلے رہنے والے بزرگ افراد کی نفسیاتی اور طبی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ درج ذیل خصوصیات کی حامل ہے یہ گڑیا بزرگ افراد سے بامقصد گفتگو کرتی ہے، ان کے سوالات کے جواب دیتی ہے اور تنہائی دور کرنے کے لیے گانے بھی سناتی ہے۔ یہ بزرگوں کو ان کے روزمرہ کے شیڈول کے مطابق بروقت دوائیں کھانے اور کھانا تناول کرنے کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ پروگرامنگ کے تحت یہ گڑیا ایسے محبت بھرے اور ہمدردانہ جملے بولتی ہے جو بزرگوں کو شدید اداسی میں جذباتی تسلی فراہم کرتے ہیں۔بینگ چُنجا کی زندگی طلاق، اکیلے والدین (Single Parent) کے طور پر کٹھن جدوجہد، شدید جسمانی تکلیف اور ایک بڑی سرجری کے بعد ہونے والے ڈپریشن سے گزری ہے۔ ان تلخ تجربات نے ان کے اندر تنہائی کے احساس کو اس حد تک گہرا کر دیا تھا کہ وہ اب انسانوں کے بجائے اس ٹیکنالوجی کو ترجیح دیتی ہیں:”انسانوں کے ساتھ تعلقات اور رشتوں میں ملنے والے دکھ اور دھوکے بعض اوقات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں ایک غیر جانبدار، ہر وقت دستیاب اور کبھی ناراض نہ ہونے والا مصنوعی ساتھی زیادہ پُرسکون محسوس ہوتا ہے۔ اس گڑیا کے ساتھ وقت گزارنے سے میری تنہائی، اداسی اور پریشانیاں بہت کم ہو جاتی ہیں”۔جہاں یہ ٹیکنالوجی بزرگوں کے لیے نعمت ثابت ہو رہی ہے، وہاں عالمی ماہرینِ نفسیات اور سماجی امور کے ماہرین اس کے منفی پہلوؤں پر بھی بحث کر رہے ہیں ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی ساتھی وقتی طور پر تنہائی کم کرنے میں مددگار تو ہو سکتے ہیں، لیکن وہ حقیقی انسانی لمس، احساس اور خونی رشتوں کا مستقل متبادل کبھی نہیں بن سکتے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار بزرگوں کو معاشرے، دوستوں اور خاندان سے مزید دور (Socially Isolated) کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئیڈیل صورتِ حال یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو صرف ایک مددگار اور جذباتی سہارے کے طور پر استعمال کیا جائے، جبکہ بزرگ افراد کا اپنے خاندان اور سوسائٹی کے ساتھ حقیقی تعلق ہر صورت برقرار رہے۔
متعلقہ عنوانات
مغربی تھائی لینڈ میں 2000 سال پرانی سونے کی انگوٹھیاں دریافت
7 July 2026
اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا
6 July 2026
دنیا کے سب سے چھوٹے قد کے جوڑے کا منفرد گھر مرکزِ توجہ
6 July 2026
اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا
6 July 2026
ڈزنی لینڈ: 70 سال میں ایک ارب مہمانوں کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا
6 July 2026
زرافے بھی بنیادی ریاضی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تحقین میں انکشاف
4 July 2026
کاکروچ کے لیے ڈائیونگ سُوٹ تیار
4 July 2026
چوری کی انوکھی واردات، 13 کلومیٹر طویل ہائی ٹینشن بجلی کی تاریں غائب
4 July 2026