LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا بگل بج گیا؛ 2 اگست کو پولنگ ہوگی، چیف الیکشن کمشنر نے شیڈول جاری کر دیا امریکا کی کئی ممالک پر نئے ٹیرف کی تجویز، پاکستان بھی شامل بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں: وزیراعظم ڈیجیٹل جنگ جاری، نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی: جمال رئیسانی وکلا کی ہڑتالیں سائلین کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہیں”: وفاقی آئینی عدالت توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی ایران امریکہ جنگ: پاکستان کی خلیجی ممالک کیلئے برآمدات بری طرح متاثر ایرانی سپریم لیڈر کے مذاکرات میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے اشارے ملے ہیں: روبیو امریکا اور ایران کے صبح سویرے پھر حملے، دونوں ممالک کا فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا منفی زون میں آغاز امریکی صدر کا غیر قانونی امیگریشن، مالیاتی فراڈ کیخلاف نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری لندن میں طالبعلم کے قتل پر احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر منتخب گلگت بلتستان انتخابات:پی ٹی آئی کے سوا باقی جماعتوں کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان “ایل نینو”کا خطرہ : دنیا کو شدید موسم سے نمٹنے کیلئےاقدامات کرنے ہوں گے، اقوام متحدہ

مصنوعی مٹھاس جگر کی بیماری کا سبب ہو سکتی ہے: تحقیق

Web Desk

3 June 2026

سینٹ لوئس (امریکہ): ایک جدید سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ عام چینی کے متبادل اور کم کیلوریز والے میٹھے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا کیمیکل ‘سوربیٹول’ (Sorbitol)، مخصوص حالات میں جگر کی سنگین بیماری ‘فیٹی لیور’ کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اس تحقیق نے دنیا بھر میں رائج اس عام تصور کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ ‘شوگر الکوحل’ انسانی جسم سے بغیر کوئی نقصان پہنچائے یا بغیر کسی اثر کے خارج ہو جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سوربیٹول درج ذیل مصنوعی اور قدرتی غذاؤں میں عام پایا جاتا ہے یہ کیمیکل عام طور پر مارکیٹ میں ملنے والی شوگر فری ٹافیوں، چیونگ گم، پروٹین بارز اور کم چینی والی دیگر ڈائٹ غذاؤں میں مٹھاس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ قدرتی طور پر بھی بعض مخصوص پھلوں اور سبزیوں میں موجود ہوتا ہے، خاص طور پر آڑو، خوبانی اور آلو بخارے جیسے ‘اسٹون فروٹس’ (ایسے پھل جن کے بیج کے گرد سخت خول ہوتا ہے) میں اس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق، جگر کی اس بیماری کو طبی اصطلاح میں ‘میٹابولک ڈسفنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیوٹک لیور ڈیزیز’ (MASLD) کہا جاتا ہے، جسے ماضی میں ‘نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز’ (NAFLD) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ جگر پر چربی چڑھنے کی ایک انتہائی عام بیماری ہے جو انسانی جسم میں موٹاپے، ذیابیطس (شوگر) اور دیگر میٹابولک مسائل کے باعث جنم لیتی ہے۔ پچھلی طبی تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ‘فرکٹوز’ جگر میں چربی (فیٹی لیور) بنانے کا ایک بڑا سبب ہے، اور یہ بیماری اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 30 فیصد بالغ آبادی کو متاثر کر رہی ہے۔

امریکہ کی مشہور واشنگٹن یونیورسٹی اِن سینٹ لوئس کے سائنس دانوں نے جگر کی اس خرابی کے پیچھے چھپی اصل وجہ معلوم کی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق:

“انسانی آنتوں میں کچھ ایسے مفید بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جن کا کام سوربیٹول کو توڑنا اور ہضم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر جسم میں یہ مفید بیکٹیریا موجود نہ ہوں، یا ان کی کارکردگی کم پڑ جائے، تو یہ سوربیٹول ہضم ہونے کے بجائے براہِ راست جگر میں پہنچ جاتا ہے۔ جگر میں جانے کے بعد یہ سوربیٹول ‘فرکٹوز’ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔”

سادہ الفاظ میں، جس سوربیٹول کو عام لوگ اور مریض چینی کا ایک محفوظ اور صحت بخش متبادل سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ مخصوص اندرونی حالات میں انسانی جسم کے اندر جا کر ایک ایسی خطرناک شکل (فرکٹوز) اختیار کر لیتا ہے جو فیٹی لیور کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔