مصنوعی مٹھاس جگر کی بیماری کا سبب ہو سکتی ہے: تحقیق
Web Desk
3 June 2026
سینٹ لوئس (امریکہ): ایک جدید سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ عام چینی کے متبادل اور کم کیلوریز والے میٹھے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا کیمیکل ‘سوربیٹول’ (Sorbitol)، مخصوص حالات میں جگر کی سنگین بیماری ‘فیٹی لیور’ کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اس تحقیق نے دنیا بھر میں رائج اس عام تصور کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ ‘شوگر الکوحل’ انسانی جسم سے بغیر کوئی نقصان پہنچائے یا بغیر کسی اثر کے خارج ہو جاتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سوربیٹول درج ذیل مصنوعی اور قدرتی غذاؤں میں عام پایا جاتا ہے یہ کیمیکل عام طور پر مارکیٹ میں ملنے والی شوگر فری ٹافیوں، چیونگ گم، پروٹین بارز اور کم چینی والی دیگر ڈائٹ غذاؤں میں مٹھاس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ قدرتی طور پر بھی بعض مخصوص پھلوں اور سبزیوں میں موجود ہوتا ہے، خاص طور پر آڑو، خوبانی اور آلو بخارے جیسے ‘اسٹون فروٹس’ (ایسے پھل جن کے بیج کے گرد سخت خول ہوتا ہے) میں اس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، جگر کی اس بیماری کو طبی اصطلاح میں ‘میٹابولک ڈسفنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیوٹک لیور ڈیزیز’ (MASLD) کہا جاتا ہے، جسے ماضی میں ‘نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز’ (NAFLD) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ جگر پر چربی چڑھنے کی ایک انتہائی عام بیماری ہے جو انسانی جسم میں موٹاپے، ذیابیطس (شوگر) اور دیگر میٹابولک مسائل کے باعث جنم لیتی ہے۔ پچھلی طبی تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ‘فرکٹوز’ جگر میں چربی (فیٹی لیور) بنانے کا ایک بڑا سبب ہے، اور یہ بیماری اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 30 فیصد بالغ آبادی کو متاثر کر رہی ہے۔
امریکہ کی مشہور واشنگٹن یونیورسٹی اِن سینٹ لوئس کے سائنس دانوں نے جگر کی اس خرابی کے پیچھے چھپی اصل وجہ معلوم کی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق:
“انسانی آنتوں میں کچھ ایسے مفید بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جن کا کام سوربیٹول کو توڑنا اور ہضم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر جسم میں یہ مفید بیکٹیریا موجود نہ ہوں، یا ان کی کارکردگی کم پڑ جائے، تو یہ سوربیٹول ہضم ہونے کے بجائے براہِ راست جگر میں پہنچ جاتا ہے۔ جگر میں جانے کے بعد یہ سوربیٹول ‘فرکٹوز’ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔”
سادہ الفاظ میں، جس سوربیٹول کو عام لوگ اور مریض چینی کا ایک محفوظ اور صحت بخش متبادل سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ مخصوص اندرونی حالات میں انسانی جسم کے اندر جا کر ایک ایسی خطرناک شکل (فرکٹوز) اختیار کر لیتا ہے جو فیٹی لیور کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
میڈیکل یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کی تقرری کی حد عمر 75 سال کرنے کا فیصلہ
9 June 2026
ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ کارکردگی، صحت کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں
9 June 2026
ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت، جلد ریگولیشن متعارف کرائیں گے: مصطفیٰ کمال
9 June 2026
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے متعلق تشویشناک انکشاف!
8 June 2026
قدیم چینی طب میں استعمال ہونیوالی دوا گنج پن کا علاج کر سکتی ہے: تحقیق
8 June 2026
پاکستان کو 9 لاکھ نرسز کی ضرورت؛ جعلی ڈگری ہولڈر صدر اور کونسل مافیا کے خلاف وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا بڑا ایکشن
8 June 2026
املی اور ادرک کا ٹھنڈا شربت، گرمی سے نجات کا قدرتی نسخہ
7 June 2026
فضائی آلودگی آپ کی دماغی قوت کو کمزور کر رہی ہے: تحقیق
6 June 2026