LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا اسرائیلی فوج میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی، 14 اہلکار برطرف، قید کی سزا عراق سے مضبوط تعلقات کے خواہاں، فضائی حملوں میں ملیشیا گروپ کو نشانہ بنایا: سعودی عرب امریکا کا ایرانی ڈرون نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کینیا میں 15 ہاتھی پراسرار طور پر ہلاک، کیڑے مار ادویات سے آلودہ ٹماٹر کھانے کا شبہ وزیراعظم شہباز شریف کا غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم، فلسطینی ریاست کے قیام پر زور بورڈ آف پیس نے غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد کا روڈ میپ جاری کردیا

مصنوعی مٹھاس جگر کی بیماری کا سبب ہو سکتی ہے: تحقیق

Web Desk

3 June 2026

سینٹ لوئس (امریکہ): ایک جدید سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ عام چینی کے متبادل اور کم کیلوریز والے میٹھے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا کیمیکل ‘سوربیٹول’ (Sorbitol)، مخصوص حالات میں جگر کی سنگین بیماری ‘فیٹی لیور’ کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اس تحقیق نے دنیا بھر میں رائج اس عام تصور کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ ‘شوگر الکوحل’ انسانی جسم سے بغیر کوئی نقصان پہنچائے یا بغیر کسی اثر کے خارج ہو جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سوربیٹول درج ذیل مصنوعی اور قدرتی غذاؤں میں عام پایا جاتا ہے یہ کیمیکل عام طور پر مارکیٹ میں ملنے والی شوگر فری ٹافیوں، چیونگ گم، پروٹین بارز اور کم چینی والی دیگر ڈائٹ غذاؤں میں مٹھاس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ قدرتی طور پر بھی بعض مخصوص پھلوں اور سبزیوں میں موجود ہوتا ہے، خاص طور پر آڑو، خوبانی اور آلو بخارے جیسے ‘اسٹون فروٹس’ (ایسے پھل جن کے بیج کے گرد سخت خول ہوتا ہے) میں اس کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق، جگر کی اس بیماری کو طبی اصطلاح میں ‘میٹابولک ڈسفنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیوٹک لیور ڈیزیز’ (MASLD) کہا جاتا ہے، جسے ماضی میں ‘نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز’ (NAFLD) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ جگر پر چربی چڑھنے کی ایک انتہائی عام بیماری ہے جو انسانی جسم میں موٹاپے، ذیابیطس (شوگر) اور دیگر میٹابولک مسائل کے باعث جنم لیتی ہے۔ پچھلی طبی تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ‘فرکٹوز’ جگر میں چربی (فیٹی لیور) بنانے کا ایک بڑا سبب ہے، اور یہ بیماری اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 30 فیصد بالغ آبادی کو متاثر کر رہی ہے۔

امریکہ کی مشہور واشنگٹن یونیورسٹی اِن سینٹ لوئس کے سائنس دانوں نے جگر کی اس خرابی کے پیچھے چھپی اصل وجہ معلوم کی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق:

“انسانی آنتوں میں کچھ ایسے مفید بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جن کا کام سوربیٹول کو توڑنا اور ہضم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر جسم میں یہ مفید بیکٹیریا موجود نہ ہوں، یا ان کی کارکردگی کم پڑ جائے، تو یہ سوربیٹول ہضم ہونے کے بجائے براہِ راست جگر میں پہنچ جاتا ہے۔ جگر میں جانے کے بعد یہ سوربیٹول ‘فرکٹوز’ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔”

سادہ الفاظ میں، جس سوربیٹول کو عام لوگ اور مریض چینی کا ایک محفوظ اور صحت بخش متبادل سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ مخصوص اندرونی حالات میں انسانی جسم کے اندر جا کر ایک ایسی خطرناک شکل (فرکٹوز) اختیار کر لیتا ہے جو فیٹی لیور کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔