LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اطالوی سفیر کی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے الوداعی ملاقات آڈیو لیک کا معاملہ؛ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر مقدمات قائم، کالعدم جے اے اے سی (JAAC) کے 4 مطلوب ارکان کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر؛ کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت فلپائن: تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی، ہزاروں افراد بے گھر امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی پنجاب حکومت کا پاسکو سے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی آرمی چیف کی ملاقات، عسکری تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر H-1B ویزا فیس غیر قانونی ہے، امریکی جج کا فیصلہ اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 5 افراد شہید، کئی زخمی پاکستان نے افغانستان سے دہشتگردوں کے حملے عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیئے ایران کے خلاف کشیدگی بڑھائی تو اسرائیل خود کو تنہا پائے گا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو پیغام

ہر سال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران دم توڑ دیتی ہیں”: وفاقی وزیر صحت

Web Desk

2 June 2026

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اہم اجلاس میں ملک میں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کے لرزہ خیز اعداد و شمار اور کم عمر بچوں میں الیکٹرانک ویپ (Vape) کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے قانون سازی پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ہر سال زچگی کے دوران 11 ہزار مائیں مار دیتے ہیں۔ انہوں نے تلخ حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ ان عورتوں میں ماں بننے کی جسمانی طاقت ہی نہیں ہوتی، جبکہ اس کے برعکس پوری دنیا میں زچگی کے دوران اموات کی مجموعی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ اب ہمیں صرف بیمار لوگوں کے روایتی علاج پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے، بنیادی طور پر بیماریوں سے بچاؤ (Prevention) کی حکمتِ عملی پر توجہ دینا ہوگی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 18 سال سے کم عمر بچوں پر الیکٹرانک ویپ (Vape) کے استعمال پر پابندی کا اہم ترین ‘پرائیویٹ ممبر بل’ بھی زیرِ غور آیا، جسے سینیٹر سرمد علی نے پیش کیا۔ بل پر بحث کے دوران درج ذیل اہم نکات سامنے آئے انہوں نے بل کے محرکات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر بچے کسی بھی صورت ویپ استعمال نہ کریں۔ تاہم، انہوں نے گلے شکوے کے انداز میں کمیٹی کو بتایا کہ ان کے اس بل پر مالیاتی معاملات کا اعتراض لگا کر اسے وزارتِ قانون اور وزارتِ خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا، “پھر میں اپنے بل کے لیے ‘نہ’ ہی سمجھوں؟” وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے سینیٹر سرمد علی کو جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ وزارتِ پارلیمانی امور کی گائیڈ لائنز اور ہدایات کے مطابق کوئی بھی پرائیویٹ ممبر بل پہلے وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ویپ کی باقاعدہ ٹیسٹنگ کے لیے ملک میں ایک نئی لیبارٹری قائم کرنا پڑے گی، اور انھی مالیاتی امور اور اخراجات کے باعث اس بل کو وزارتِ خزانہ اور کابینہ کو بھجوانا قانونی ضرورت ہے۔سینیٹر سرمد علی کے بل پر پیدا ہونے والے تکنیکی و مالیاتی تعطل اور طریقہ کار کو سلجھانے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے معاملے کی شفافیت اور بل کو جلد از جلد قانون کا حصہ بنانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے آئندہ اجلاس میں وزارتِ پارلیمانی امور کے اعلیٰ حکام کو باقاعدہ طلب کر لیا ہے تاکہ اس حوالے سے حتمی بریفنگ لی جا سکے۔