ہر سال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران دم توڑ دیتی ہیں”: وفاقی وزیر صحت
Web Desk
2 June 2026
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اہم اجلاس میں ملک میں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کے لرزہ خیز اعداد و شمار اور کم عمر بچوں میں الیکٹرانک ویپ (Vape) کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے قانون سازی پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ہر سال زچگی کے دوران 11 ہزار مائیں مار دیتے ہیں۔ انہوں نے تلخ حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ ان عورتوں میں ماں بننے کی جسمانی طاقت ہی نہیں ہوتی، جبکہ اس کے برعکس پوری دنیا میں زچگی کے دوران اموات کی مجموعی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ اب ہمیں صرف بیمار لوگوں کے روایتی علاج پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے، بنیادی طور پر بیماریوں سے بچاؤ (Prevention) کی حکمتِ عملی پر توجہ دینا ہوگی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 18 سال سے کم عمر بچوں پر الیکٹرانک ویپ (Vape) کے استعمال پر پابندی کا اہم ترین ‘پرائیویٹ ممبر بل’ بھی زیرِ غور آیا، جسے سینیٹر سرمد علی نے پیش کیا۔ بل پر بحث کے دوران درج ذیل اہم نکات سامنے آئے انہوں نے بل کے محرکات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر بچے کسی بھی صورت ویپ استعمال نہ کریں۔ تاہم، انہوں نے گلے شکوے کے انداز میں کمیٹی کو بتایا کہ ان کے اس بل پر مالیاتی معاملات کا اعتراض لگا کر اسے وزارتِ قانون اور وزارتِ خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا، “پھر میں اپنے بل کے لیے ‘نہ’ ہی سمجھوں؟” وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے سینیٹر سرمد علی کو جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ وزارتِ پارلیمانی امور کی گائیڈ لائنز اور ہدایات کے مطابق کوئی بھی پرائیویٹ ممبر بل پہلے وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ویپ کی باقاعدہ ٹیسٹنگ کے لیے ملک میں ایک نئی لیبارٹری قائم کرنا پڑے گی، اور انھی مالیاتی امور اور اخراجات کے باعث اس بل کو وزارتِ خزانہ اور کابینہ کو بھجوانا قانونی ضرورت ہے۔سینیٹر سرمد علی کے بل پر پیدا ہونے والے تکنیکی و مالیاتی تعطل اور طریقہ کار کو سلجھانے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے معاملے کی شفافیت اور بل کو جلد از جلد قانون کا حصہ بنانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے آئندہ اجلاس میں وزارتِ پارلیمانی امور کے اعلیٰ حکام کو باقاعدہ طلب کر لیا ہے تاکہ اس حوالے سے حتمی بریفنگ لی جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
میڈیکل یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کی تقرری کی حد عمر 75 سال کرنے کا فیصلہ
9 June 2026
ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ کارکردگی، صحت کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں
9 June 2026
ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت، جلد ریگولیشن متعارف کرائیں گے: مصطفیٰ کمال
9 June 2026
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے متعلق تشویشناک انکشاف!
8 June 2026
قدیم چینی طب میں استعمال ہونیوالی دوا گنج پن کا علاج کر سکتی ہے: تحقیق
8 June 2026
پاکستان کو 9 لاکھ نرسز کی ضرورت؛ جعلی ڈگری ہولڈر صدر اور کونسل مافیا کے خلاف وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا بڑا ایکشن
8 June 2026
املی اور ادرک کا ٹھنڈا شربت، گرمی سے نجات کا قدرتی نسخہ
7 June 2026
فضائی آلودگی آپ کی دماغی قوت کو کمزور کر رہی ہے: تحقیق
6 June 2026