LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا اسرائیلی فوج میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی، 14 اہلکار برطرف، قید کی سزا عراق سے مضبوط تعلقات کے خواہاں، فضائی حملوں میں ملیشیا گروپ کو نشانہ بنایا: سعودی عرب امریکا کا ایرانی ڈرون نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کینیا میں 15 ہاتھی پراسرار طور پر ہلاک، کیڑے مار ادویات سے آلودہ ٹماٹر کھانے کا شبہ

ہر سال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران دم توڑ دیتی ہیں”: وفاقی وزیر صحت

Web Desk

2 June 2026

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اہم اجلاس میں ملک میں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کے لرزہ خیز اعداد و شمار اور کم عمر بچوں میں الیکٹرانک ویپ (Vape) کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے قانون سازی پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ہر سال زچگی کے دوران 11 ہزار مائیں مار دیتے ہیں۔ انہوں نے تلخ حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ ان عورتوں میں ماں بننے کی جسمانی طاقت ہی نہیں ہوتی، جبکہ اس کے برعکس پوری دنیا میں زچگی کے دوران اموات کی مجموعی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ اب ہمیں صرف بیمار لوگوں کے روایتی علاج پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے، بنیادی طور پر بیماریوں سے بچاؤ (Prevention) کی حکمتِ عملی پر توجہ دینا ہوگی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 18 سال سے کم عمر بچوں پر الیکٹرانک ویپ (Vape) کے استعمال پر پابندی کا اہم ترین ‘پرائیویٹ ممبر بل’ بھی زیرِ غور آیا، جسے سینیٹر سرمد علی نے پیش کیا۔ بل پر بحث کے دوران درج ذیل اہم نکات سامنے آئے انہوں نے بل کے محرکات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر بچے کسی بھی صورت ویپ استعمال نہ کریں۔ تاہم، انہوں نے گلے شکوے کے انداز میں کمیٹی کو بتایا کہ ان کے اس بل پر مالیاتی معاملات کا اعتراض لگا کر اسے وزارتِ قانون اور وزارتِ خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا، “پھر میں اپنے بل کے لیے ‘نہ’ ہی سمجھوں؟” وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے سینیٹر سرمد علی کو جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ وزارتِ پارلیمانی امور کی گائیڈ لائنز اور ہدایات کے مطابق کوئی بھی پرائیویٹ ممبر بل پہلے وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ویپ کی باقاعدہ ٹیسٹنگ کے لیے ملک میں ایک نئی لیبارٹری قائم کرنا پڑے گی، اور انھی مالیاتی امور اور اخراجات کے باعث اس بل کو وزارتِ خزانہ اور کابینہ کو بھجوانا قانونی ضرورت ہے۔سینیٹر سرمد علی کے بل پر پیدا ہونے والے تکنیکی و مالیاتی تعطل اور طریقہ کار کو سلجھانے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے معاملے کی شفافیت اور بل کو جلد از جلد قانون کا حصہ بنانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے آئندہ اجلاس میں وزارتِ پارلیمانی امور کے اعلیٰ حکام کو باقاعدہ طلب کر لیا ہے تاکہ اس حوالے سے حتمی بریفنگ لی جا سکے۔