LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی کامیابی ہے: چینی اخبار حادثات اور ہنگامی حالات میں بروقت ابتدائی طبی امداد ناگزیر ہے، مریم نواز شریف افغانستان میں داعش خراسان اب بھی سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے: روس کا انتباہ نیویارک میں محبوس وینزویلا کے سابق صدر کی اہلیہ کو ہارٹ اٹیک کا خدشہ سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف موجودہ نظام سے خامیاں دور کرے: پاکستان انڈونیشیا میں بحری جہاز خراب موسم کی لپیٹ میں آ گیا، 102 مسافر بچا لیے گئے، 140 تاحال لاپتا ایران کی امریکہ کو 7 شرائط پیش، مطالبات کی منظوری تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ

سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان

Web Desk

13 September 2026

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم کسی کے آگے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گی اور تہران کو بیرونی دباؤ کے ذریعے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر مسعود پزشکیان نے شہری تنصیبات، عوامی بنیادی ڈھانچے اور خوراک کو نشانہ بنانے پر امریکی پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ میں واقعی ہمت ہے تو وہ سامنے آ کر ایرانی فوج کا مقابلہ کرے، عام شہریوں کی خوراک، پانی، ادویات اور روزگار کے ذرائع کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ انسانیت کا دعویٰ کرنے والا امریکہ بنیادی انسانی ضروریات تک عوام کی رسائی کیوں روک رہا ہے۔

علاقائی صورتحال اور پڑوسی ممالک سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے وضاحت کی کہ ایران کی سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں، جبکہ خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر باہمی امن اور سیکیورٹی کے لیے مشترکہ حل تلاش کرنا چاہیے۔

مسقط میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان متوقع اہم معاہدے سے متعلق صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں ان تمام ممالک کی نمائندگی ہونی چاہیے جن کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال کی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق کا تقاضا کرتا ہے اور وہ جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتا ہے، تاہم امریکہ، اسرائیل اور ان کے یورپی اتحادی خطے میں کسی ملک کو آزاد اور خود مختار نہیں دیکھنا چاہتے۔

دوسری جانب، ’انڈیا ٹوڈے‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے بارے میں پھیلی افواہوں کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے رہبرِ اعلیٰ بالکل محفوظ ہیں اور حسبِ معمول تمام امور انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ان کی رہائش گاہ یا ٹھکانے کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے، اسی لیے عالمی سطح پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کسی ایک شخص کی خاطر اس کے پورے خاندان کو قتل کر دیتے ہیں، بلڈنگیں تباہ کر دیتے ہیں اور بعد میں اس شخص کو دہشت گرد قرار دے دیتے ہیں—جو کہ دنیا میں ظلم کا ایک نیا اور خطرناک طریقہ بن چکا ہے۔