صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ
Web Desk
13 September 2026
لاہور: وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کا معاملہ اگر پارلیمنٹ میں آیا تو تمام فریقین اپنی رائے دیں گے، تاہم اس عمل میں 6 سے 8 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سہیل وڑائچ، مجیب الرحمان شامی، سلمان غنی، حفیظ اللہ نیازی اور سلیم بخاری سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ ن لیگ نے صوبوں کی تقسیم کا کوئی پراجیکٹ شروع نہیں کیا۔ اگر پراجیکٹ بنانے والوں نے اس حوالے سے بات کی ہے تو اس پر فوری متنازع گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں نئے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا نیا فریم ورک بھی سامنے آ سکتا ہے۔
پنجاب کی تقسیم اور بہاولپور کی حیثیت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کی مقامی قیادت بہاولپور کو جنوبی پنجاب کے ساتھ شامل کرنے کی حامی نہیں ہے۔ بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے یا اسے لاہور ہی کے ساتھ برقرار رکھنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم پر ن لیگ کی جانب سے کوئی بڑا دباؤ سامنے نہیں آیا، جبکہ اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ کینال پراجیکٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ صدر زرداری کی حمایت کے باوجود عوامی احتجاج کے پیشِ نظر پراجیکٹ بند کر دیا گیا۔
سیاسی اور قومی سیکیورٹی کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ پس پردہ گفتگو کا عمل جاری ہو سکتا ہے، لیکن ایسی گفتگو اپنانے کی ایک خاص قیمت ہوتی ہے جو چکانی پڑے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاجی پلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف مسلح ہو کر اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے ‘فتنہ الخوارج’ کے عناصر پی ٹی آئی کی ریلی کو نشانہ بنا کر حکومت اور عوام میں فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
وفاقی کابینہ اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کابینہ یا سینیٹ میں اپنا مؤقف رکھیں گے تو جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر شیخ قیصر کی وزیراعظم شہباز شریف سے مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، اس لیے ان کے اعتراضات کی سمجھ نہیں آئی۔ انہوں نے تاکید کی کہ تمام سیاسی و انتظامی امور کو عمومی بحث کا حصہ بنانے کے بجائے کچھ چیزیں صیغہ راز میں رکھ کر غور و خوض کے لیے چھوڑی جانی چاہئیں۔
متعلقہ عنوانات
اپوزیشن کمیٹی کے ساتھ اچھا معاہدہ تیار ہوا، سہیل آفریدی نے سبوتاژ کر دیا: محسن نقوی
4 October 2026
پاک بھارت سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ، شہید پاکستانی شہریوں کی نمازِ جنازہ ادا
4 October 2026
وزیراعظم کی محسن نقوی سے ملاقات، خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے سخت فیصلوں پر غور
4 October 2026
وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اپوزیشن سے مذاکرات پر تبادلہ خیال
4 October 2026
خیبرپختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر اتفاق کرکے آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئی: محسن نقوی
4 October 2026
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ کا مسودہ جاری کر دیا
4 October 2026
اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف
4 October 2026
پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا آغاز، 5 روڈ منصوبے نجی شعبے کے سپرد
4 October 2026