LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی کامیابی ہے: چینی اخبار حادثات اور ہنگامی حالات میں بروقت ابتدائی طبی امداد ناگزیر ہے، مریم نواز شریف افغانستان میں داعش خراسان اب بھی سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے: روس کا انتباہ نیویارک میں محبوس وینزویلا کے سابق صدر کی اہلیہ کو ہارٹ اٹیک کا خدشہ سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف موجودہ نظام سے خامیاں دور کرے: پاکستان انڈونیشیا میں بحری جہاز خراب موسم کی لپیٹ میں آ گیا، 102 مسافر بچا لیے گئے، 140 تاحال لاپتا

صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ

Web Desk

13 September 2026

لاہور: وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کا معاملہ اگر پارلیمنٹ میں آیا تو تمام فریقین اپنی رائے دیں گے، تاہم اس عمل میں 6 سے 8 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

لاہور میں سینئر صحافیوں سہیل وڑائچ، مجیب الرحمان شامی، سلمان غنی، حفیظ اللہ نیازی اور سلیم بخاری سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ ن لیگ نے صوبوں کی تقسیم کا کوئی پراجیکٹ شروع نہیں کیا۔ اگر پراجیکٹ بنانے والوں نے اس حوالے سے بات کی ہے تو اس پر فوری متنازع گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں نئے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا نیا فریم ورک بھی سامنے آ سکتا ہے۔

پنجاب کی تقسیم اور بہاولپور کی حیثیت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کی مقامی قیادت بہاولپور کو جنوبی پنجاب کے ساتھ شامل کرنے کی حامی نہیں ہے۔ بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے یا اسے لاہور ہی کے ساتھ برقرار رکھنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم پر ن لیگ کی جانب سے کوئی بڑا دباؤ سامنے نہیں آیا، جبکہ اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ کینال پراجیکٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ صدر زرداری کی حمایت کے باوجود عوامی احتجاج کے پیشِ نظر پراجیکٹ بند کر دیا گیا۔

سیاسی اور قومی سیکیورٹی کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ پس پردہ گفتگو کا عمل جاری ہو سکتا ہے، لیکن ایسی گفتگو اپنانے کی ایک خاص قیمت ہوتی ہے جو چکانی پڑے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاجی پلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف مسلح ہو کر اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے ‘فتنہ الخوارج’ کے عناصر پی ٹی آئی کی ریلی کو نشانہ بنا کر حکومت اور عوام میں فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

وفاقی کابینہ اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کابینہ یا سینیٹ میں اپنا مؤقف رکھیں گے تو جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر شیخ قیصر کی وزیراعظم شہباز شریف سے مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، اس لیے ان کے اعتراضات کی سمجھ نہیں آئی۔ انہوں نے تاکید کی کہ تمام سیاسی و انتظامی امور کو عمومی بحث کا حصہ بنانے کے بجائے کچھ چیزیں صیغہ راز میں رکھ کر غور و خوض کے لیے چھوڑی جانی چاہئیں۔