LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دفاعی معاہدے میں ایران، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو شامل کیا جائے: حافظ نعیم الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے: اسد قیصر پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے: عطا تارڑ ایران کا میزائلوں کی رینج اور رفتار بڑھانے کا فیصلہ، اپ گریڈیشن شروع اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے کس کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھول دیں گے: عباس عراقچی ماسکو فارمیٹ کا افغانستان سے متعلق آٹھواں مشاورتی اجلاس 5 اکتوبر کو ہو گا نانٹکیٹ کے ساحل کے قریب لاپتا طبی طیارے کا ملبہ مل گیا، 6 افراد تاحال لاپتا اپوزیشن کمیٹی کے ساتھ اچھا معاہدہ تیار ہوا، سہیل آفریدی نے سبوتاژ کر دیا: محسن نقوی پاک بھارت سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ، شہید پاکستانی شہریوں کی نمازِ جنازہ ادا وزیراعظم کی محسن نقوی سے ملاقات، خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے سخت فیصلوں پر غور وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اپوزیشن سے مذاکرات پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر اتفاق کرکے آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئی: محسن نقوی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ کا مسودہ جاری کر دیا اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف

غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں کھانے کی بیماریاں زیادہ عام ہونے کا انکشاف!

Web Desk

13 September 2026

لندن: برطانوی محققین کی جانب سے سامنے آنے والی ایک جدید تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوشحال اور متوسط طبقے کے مقابلے میں غریب اور غیر تعلیم یافتہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں کھانے کی سنگین بیماریوں (Eating Disorders) کا شکار ہونے کا خدشہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کے ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق، جن نوجوانوں کے والدین نے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل نہیں کی، ان میں اینوریکسیا (Anorexia)، بُلیمیا (Bulimia) اور حد سے زیادہ کھانے کی عادت جیسی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس، اوسط سے زیادہ آمدنی رکھنے والے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانوں کے بچوں میں ایسی ذہنی و جسمانی بیماریوں کے امکانات نسبتاً کم پائے گئے۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مالی مشکلات، والدین کے پیشے یا حکومتی امداد پر انحصار جیسے دیگر سماجی و معاشی پیمانوں اور کھانے کی بیماریوں کے درمیان تعلق اتنا گہرا یا مسلسل ثابت نہیں ہوا، جتنا کہ والدین کی تعلیمی سطح اور پس منظر سے سامنے آیا ہے۔

یو سی ایل (UCL) کے ماہرین نے اس تاثر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کھانے کی بیماریوں کو محض خوشحال یا مراعات یافتہ طبقے کی لاپرواہی یا فیشن سے جوڑنا ایک سنگین غلط فہمی ہے۔

تحقیق کی سربراہ مصنفہ اور نوعمر افراد میں کھانے کی بیماریوں کی ماہر ڈاکٹر نورا ٹرومپیٹر (Dr. Nora Trompeter) کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر ان بیماریوں کو امیر اور متمول طبقے کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، تاہم سائنسی شواہد اس کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کھانے کی بیماریاں کسی تعلیمی یا معاشی پس منظر کو دیکھ کر نہیں آتیں۔ اگر اس غلط فہمی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو غریب پس منظر سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کی بروقت تشخیص اور علاج مکمل طور پر نظرانداز ہو جائے گا جنہیں طبی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔