LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں کھانے کی بیماریاں زیادہ عام ہونے کا انکشاف!

Web Desk

13 September 2026

لندن: برطانوی محققین کی جانب سے سامنے آنے والی ایک جدید تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوشحال اور متوسط طبقے کے مقابلے میں غریب اور غیر تعلیم یافتہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں کھانے کی سنگین بیماریوں (Eating Disorders) کا شکار ہونے کا خدشہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کے ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق، جن نوجوانوں کے والدین نے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل نہیں کی، ان میں اینوریکسیا (Anorexia)، بُلیمیا (Bulimia) اور حد سے زیادہ کھانے کی عادت جیسی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس، اوسط سے زیادہ آمدنی رکھنے والے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانوں کے بچوں میں ایسی ذہنی و جسمانی بیماریوں کے امکانات نسبتاً کم پائے گئے۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مالی مشکلات، والدین کے پیشے یا حکومتی امداد پر انحصار جیسے دیگر سماجی و معاشی پیمانوں اور کھانے کی بیماریوں کے درمیان تعلق اتنا گہرا یا مسلسل ثابت نہیں ہوا، جتنا کہ والدین کی تعلیمی سطح اور پس منظر سے سامنے آیا ہے۔

یو سی ایل (UCL) کے ماہرین نے اس تاثر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کھانے کی بیماریوں کو محض خوشحال یا مراعات یافتہ طبقے کی لاپرواہی یا فیشن سے جوڑنا ایک سنگین غلط فہمی ہے۔

تحقیق کی سربراہ مصنفہ اور نوعمر افراد میں کھانے کی بیماریوں کی ماہر ڈاکٹر نورا ٹرومپیٹر (Dr. Nora Trompeter) کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر ان بیماریوں کو امیر اور متمول طبقے کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، تاہم سائنسی شواہد اس کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کھانے کی بیماریاں کسی تعلیمی یا معاشی پس منظر کو دیکھ کر نہیں آتیں۔ اگر اس غلط فہمی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو غریب پس منظر سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کی بروقت تشخیص اور علاج مکمل طور پر نظرانداز ہو جائے گا جنہیں طبی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔