LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں کھانے کی بیماریاں زیادہ عام ہونے کا انکشاف!

Web Desk

13 September 2026

لندن: برطانوی محققین کی جانب سے سامنے آنے والی ایک جدید تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوشحال اور متوسط طبقے کے مقابلے میں غریب اور غیر تعلیم یافتہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں کھانے کی سنگین بیماریوں (Eating Disorders) کا شکار ہونے کا خدشہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کے ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق، جن نوجوانوں کے والدین نے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل نہیں کی، ان میں اینوریکسیا (Anorexia)، بُلیمیا (Bulimia) اور حد سے زیادہ کھانے کی عادت جیسی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس، اوسط سے زیادہ آمدنی رکھنے والے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانوں کے بچوں میں ایسی ذہنی و جسمانی بیماریوں کے امکانات نسبتاً کم پائے گئے۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مالی مشکلات، والدین کے پیشے یا حکومتی امداد پر انحصار جیسے دیگر سماجی و معاشی پیمانوں اور کھانے کی بیماریوں کے درمیان تعلق اتنا گہرا یا مسلسل ثابت نہیں ہوا، جتنا کہ والدین کی تعلیمی سطح اور پس منظر سے سامنے آیا ہے۔

یو سی ایل (UCL) کے ماہرین نے اس تاثر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کھانے کی بیماریوں کو محض خوشحال یا مراعات یافتہ طبقے کی لاپرواہی یا فیشن سے جوڑنا ایک سنگین غلط فہمی ہے۔

تحقیق کی سربراہ مصنفہ اور نوعمر افراد میں کھانے کی بیماریوں کی ماہر ڈاکٹر نورا ٹرومپیٹر (Dr. Nora Trompeter) کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر ان بیماریوں کو امیر اور متمول طبقے کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، تاہم سائنسی شواہد اس کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کھانے کی بیماریاں کسی تعلیمی یا معاشی پس منظر کو دیکھ کر نہیں آتیں۔ اگر اس غلط فہمی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو غریب پس منظر سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کی بروقت تشخیص اور علاج مکمل طور پر نظرانداز ہو جائے گا جنہیں طبی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔