صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال
Web Desk
13 September 2026
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے ہیلتھ کیئر کے شعبے میں گزشتہ 14 ماہ کے دوران جو انقلابی پیش رفت کی ہے، وہ ماضی کے 30 سالہ کام سے کہیں زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ 23ویں ‘ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن’ کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی و ملکی نمائش کنندگان اور وفود کے ساتھ مختلف اسٹالز کا تفصیلی دورہ بھی کیا۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ایک لامتناہی شعبہ ہے کیونکہ انسان کی موجودگی تک صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف بیماری کا علاج کرنے کے بجائے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی بنیادی پالیسی پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے اور ہر سال 67 لاکھ نئے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے—جو کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کی کل آبادی کا بڑا اضافہ ہے۔ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2030ء تک اسپتالوں پر شدید اور ناقابلِ برداشت بوجھ پڑے گا۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ علاج کے ساتھ ساتھ پینے کا صاف پانی فراہم کرنا، بچوں کی ویکسینیشن اور برتھ اسپیسنگ (پیدائش میں وقفہ) بھی ہیلتھ کیئر کا بنیادی حصہ ہیں، اور یہ صرف وزارتِ صحت کی نہیں بلکہ مقامی کونسلرز کی بھی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے اب درآمدی طبی الات پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی سطح پر جدید طبی مشینیں بنانا شروع کر دی ہیں، جس سے ڈھائی کروڑ اور ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی مشینیں محض 10 سے 40 لاکھ روپے میں دستیاب ہو رہی ہیں۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ چین اور پاکستان کی کمپنیوں کے درمیان حال ہی میں فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ سیکٹر میں 650 ملین ڈالرز کے باقاعدہ معاہدے اور 1.2 بلین ڈالرز کے ایم او یوز (MoUs) طے پا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ‘سک کیئر’ سے نکل کر حقیقی ‘ہیلتھ کیئر’ کے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کراچی میں پانی کے بحران اور ٹینکر مافیا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 80 فیصد گھروں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں اور پانی کی خرید و فروخت کا ایک بڑا تجارتی ایمپائر قائم ہو چکا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایڑی کا درد نظر انداز نہ کریں، کن علامات پر ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے؟
4 October 2026
وزن میں کمی کے دوران جسم کی زائد چربی کہاں جاتی ہے، حیران کُن جواب
4 October 2026
دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت
3 October 2026
پاکستان میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت : ڈاکٹر مختار برتھ
2 October 2026
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026