LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال

Web Desk

13 September 2026

کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے ہیلتھ کیئر کے شعبے میں گزشتہ 14 ماہ کے دوران جو انقلابی پیش رفت کی ہے، وہ ماضی کے 30 سالہ کام سے کہیں زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ 23ویں ‘ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن’ کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی و ملکی نمائش کنندگان اور وفود کے ساتھ مختلف اسٹالز کا تفصیلی دورہ بھی کیا۔

اپنے خطاب میں وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ایک لامتناہی شعبہ ہے کیونکہ انسان کی موجودگی تک صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف بیماری کا علاج کرنے کے بجائے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی بنیادی پالیسی پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے اور ہر سال 67 لاکھ نئے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے—جو کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کی کل آبادی کا بڑا اضافہ ہے۔ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2030ء تک اسپتالوں پر شدید اور ناقابلِ برداشت بوجھ پڑے گا۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ علاج کے ساتھ ساتھ پینے کا صاف پانی فراہم کرنا، بچوں کی ویکسینیشن اور برتھ اسپیسنگ (پیدائش میں وقفہ) بھی ہیلتھ کیئر کا بنیادی حصہ ہیں، اور یہ صرف وزارتِ صحت کی نہیں بلکہ مقامی کونسلرز کی بھی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے اب درآمدی طبی الات پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی سطح پر جدید طبی مشینیں بنانا شروع کر دی ہیں، جس سے ڈھائی کروڑ اور ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی مشینیں محض 10 سے 40 لاکھ روپے میں دستیاب ہو رہی ہیں۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ چین اور پاکستان کی کمپنیوں کے درمیان حال ہی میں فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ سیکٹر میں 650 ملین ڈالرز کے باقاعدہ معاہدے اور 1.2 بلین ڈالرز کے ایم او یوز (MoUs) طے پا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ‘سک کیئر’ سے نکل کر حقیقی ‘ہیلتھ کیئر’ کے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کراچی میں پانی کے بحران اور ٹینکر مافیا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 80 فیصد گھروں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں اور پانی کی خرید و فروخت کا ایک بڑا تجارتی ایمپائر قائم ہو چکا ہے۔