LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دفاعی معاہدے میں ایران، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو شامل کیا جائے: حافظ نعیم الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے: اسد قیصر پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے: عطا تارڑ ایران کا میزائلوں کی رینج اور رفتار بڑھانے کا فیصلہ، اپ گریڈیشن شروع اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے کس کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھول دیں گے: عباس عراقچی ماسکو فارمیٹ کا افغانستان سے متعلق آٹھواں مشاورتی اجلاس 5 اکتوبر کو ہو گا نانٹکیٹ کے ساحل کے قریب لاپتا طبی طیارے کا ملبہ مل گیا، 6 افراد تاحال لاپتا اپوزیشن کمیٹی کے ساتھ اچھا معاہدہ تیار ہوا، سہیل آفریدی نے سبوتاژ کر دیا: محسن نقوی پاک بھارت سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ، شہید پاکستانی شہریوں کی نمازِ جنازہ ادا وزیراعظم کی محسن نقوی سے ملاقات، خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے سخت فیصلوں پر غور وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اپوزیشن سے مذاکرات پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر اتفاق کرکے آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئی: محسن نقوی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ کا مسودہ جاری کر دیا اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف

صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال

Web Desk

13 September 2026

کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے ہیلتھ کیئر کے شعبے میں گزشتہ 14 ماہ کے دوران جو انقلابی پیش رفت کی ہے، وہ ماضی کے 30 سالہ کام سے کہیں زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ 23ویں ‘ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن’ کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی و ملکی نمائش کنندگان اور وفود کے ساتھ مختلف اسٹالز کا تفصیلی دورہ بھی کیا۔

اپنے خطاب میں وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ایک لامتناہی شعبہ ہے کیونکہ انسان کی موجودگی تک صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف بیماری کا علاج کرنے کے بجائے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی بنیادی پالیسی پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے اور ہر سال 67 لاکھ نئے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے—جو کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کی کل آبادی کا بڑا اضافہ ہے۔ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2030ء تک اسپتالوں پر شدید اور ناقابلِ برداشت بوجھ پڑے گا۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ علاج کے ساتھ ساتھ پینے کا صاف پانی فراہم کرنا، بچوں کی ویکسینیشن اور برتھ اسپیسنگ (پیدائش میں وقفہ) بھی ہیلتھ کیئر کا بنیادی حصہ ہیں، اور یہ صرف وزارتِ صحت کی نہیں بلکہ مقامی کونسلرز کی بھی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے اب درآمدی طبی الات پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی سطح پر جدید طبی مشینیں بنانا شروع کر دی ہیں، جس سے ڈھائی کروڑ اور ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی مشینیں محض 10 سے 40 لاکھ روپے میں دستیاب ہو رہی ہیں۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ چین اور پاکستان کی کمپنیوں کے درمیان حال ہی میں فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ سیکٹر میں 650 ملین ڈالرز کے باقاعدہ معاہدے اور 1.2 بلین ڈالرز کے ایم او یوز (MoUs) طے پا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ‘سک کیئر’ سے نکل کر حقیقی ‘ہیلتھ کیئر’ کے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کراچی میں پانی کے بحران اور ٹینکر مافیا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 80 فیصد گھروں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں اور پانی کی خرید و فروخت کا ایک بڑا تجارتی ایمپائر قائم ہو چکا ہے۔