LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال

Web Desk

13 September 2026

کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے ہیلتھ کیئر کے شعبے میں گزشتہ 14 ماہ کے دوران جو انقلابی پیش رفت کی ہے، وہ ماضی کے 30 سالہ کام سے کہیں زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ 23ویں ‘ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن’ کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی و ملکی نمائش کنندگان اور وفود کے ساتھ مختلف اسٹالز کا تفصیلی دورہ بھی کیا۔

اپنے خطاب میں وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ایک لامتناہی شعبہ ہے کیونکہ انسان کی موجودگی تک صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف بیماری کا علاج کرنے کے بجائے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی بنیادی پالیسی پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے اور ہر سال 67 لاکھ نئے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے—جو کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کی کل آبادی کا بڑا اضافہ ہے۔ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2030ء تک اسپتالوں پر شدید اور ناقابلِ برداشت بوجھ پڑے گا۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ علاج کے ساتھ ساتھ پینے کا صاف پانی فراہم کرنا، بچوں کی ویکسینیشن اور برتھ اسپیسنگ (پیدائش میں وقفہ) بھی ہیلتھ کیئر کا بنیادی حصہ ہیں، اور یہ صرف وزارتِ صحت کی نہیں بلکہ مقامی کونسلرز کی بھی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے اب درآمدی طبی الات پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی سطح پر جدید طبی مشینیں بنانا شروع کر دی ہیں، جس سے ڈھائی کروڑ اور ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی مشینیں محض 10 سے 40 لاکھ روپے میں دستیاب ہو رہی ہیں۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ چین اور پاکستان کی کمپنیوں کے درمیان حال ہی میں فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ سیکٹر میں 650 ملین ڈالرز کے باقاعدہ معاہدے اور 1.2 بلین ڈالرز کے ایم او یوز (MoUs) طے پا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ‘سک کیئر’ سے نکل کر حقیقی ‘ہیلتھ کیئر’ کے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کراچی میں پانی کے بحران اور ٹینکر مافیا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 80 فیصد گھروں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں اور پانی کی خرید و فروخت کا ایک بڑا تجارتی ایمپائر قائم ہو چکا ہے۔