LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں لیکن وومن کارڈ استعمال نہ کریں ، صنم سعید

Web Desk

25 May 2026

پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اور باصلاحیت اداکارہ صنم سعید، جو اپنی جاندار اداکاری کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سنجیدہ، نپی تلی اور مدلل گفتگو کے لیے جانی جاتی ہیں، نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریک اور ان سے جڑے حقیقی مسائل پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے اور صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

صنم سعید نے انٹرویو کے دوران خواتین کی جدوجہد، معاشرتی رویوں اور ورک پلیس (کام کی جگہ) پر ان کے حقوق کے حوالے سے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کو تعلیم، وراثت میں حصہ، مردوں کے مساوی تنخواہ (Equal Pay) اور مکمل تحفظ جیسے بنیادی حقوق دلانے کی جدوجہد نہایت اہم اور وقت کی ضرورت تھی، کیونکہ ہمارے معاشرے میں کئی خواتین آج بھی ان بنیادی ترین سہولیات اور حقوق سے یکسر محروم ہیں۔ تاہم، انہوں نے تحریک کے موجودہ رخ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”بدقسمتی سے خواتین کے حقوق سے متعلق اصل اور سنجیدہ مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اب بحث کا رخ دیگر غیر ضروری معاملات کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔ اس سطحی بحث کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں جو حقیقی معاشی و سماجی تبدیلی آنی چاہیے، اس کا عمل بری طرح متاثر ہو جاتا ہے۔“

صنم سعید نے کام کی جگہوں پر خواتین کے حقوق اور صنفی برابری (Gender Equality) کے حوالے سے ایک انتہائی پختہ اور عملی موقف اپنایا۔ ان کے مطابق تبدیلی لانے کا مؤثر طریقہ یہ ہے:

  • مؤثر اور مثبت رابطہ: مثبت اندازِ گفتگو اور مضبوط کمیونیکیشن ہی معاشرے یا کسی بھی ادارے میں تبدیلی کی اصل کنجی ہے۔

  • حقوق کا منطقی مطالبہ: خواتین کو صرف اس جذباتی بنیاد پر اپنے مطالبات سامنے نہیں رکھنے چاہئیں کہ وہ ”عورت“ ہیں، بلکہ انہیں اپنے مؤقف کو ایک ٹھوس قانونی اور بنیادی انسانی حق کے طور پر پیش کرنا چاہیے اور اس کے حصول کے لیے عملی و قانونی جدوجہد کرنی چاہیے۔

صنم سعید کے اس مدلل انٹرویو نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد ان کے اس موقف کی تائید کر رہی ہے کہ حقوق کی تحریک کو نعروں کے بجائے تعلیم، وراثت اور تحفظ جیسے بنیادی اور حقیقی مسائل پر ہی مرکوز رہنا چاہیے تاکہ خواتین کو عملی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔