LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آئرلینڈ کی سفیر کی صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ سے ملاقات یوکرین میں امن معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے: صدر پوتن وزیراعظم کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین سوشل میڈیا پر سائبر سکیورٹی سے متعلق نوٹیفکیشن جعلی اور گمراہ کن ہے: پی ٹی اے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ، مجموعی ذخائر 22 ارب 52 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے حکومت نے دھرنے موخر کرنیکا کہا، دھرنے بھی چلیں گے اور مذاکرات بھی: حافظ نعیم الرحمٰن ایرانی فوج کا یو اے ای اور کویت میں امریکی اڈوں پر نئے حملوں کا دعویٰ انڈس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر عبدالباری کے لیے امریکی امپیکٹ ایوارڈ سیرت النبیؐ تمام انسانیت کے لیے رہنمائی اور رحمت کا سرچشمہ ہے، عطا تارڑ عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: عدالت کا فریقین کو عدالتی تقدس برقرار رکھنے کا حکم روس کبھی یورپ کے پیچھے پابندیاں اٹھوانے کیلئے نہیں بھاگے گا: سرگئی لاوروف روس کا دورِ مشرق ایشیا پیسیفک کے ساتھ تعاون کا اہم مرکز بنے گا: صدر پوتن شرجیل میمن کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت حتمی مالکان کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر 28 ہزار 761 کمپنیوں کو شوکاز نوٹس پاک چین تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے فروغ میں اہم پیشرفت

خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں لیکن وومن کارڈ استعمال نہ کریں ، صنم سعید

Web Desk

25 May 2026

پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اور باصلاحیت اداکارہ صنم سعید، جو اپنی جاندار اداکاری کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سنجیدہ، نپی تلی اور مدلل گفتگو کے لیے جانی جاتی ہیں، نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریک اور ان سے جڑے حقیقی مسائل پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے اور صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

صنم سعید نے انٹرویو کے دوران خواتین کی جدوجہد، معاشرتی رویوں اور ورک پلیس (کام کی جگہ) پر ان کے حقوق کے حوالے سے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کو تعلیم، وراثت میں حصہ، مردوں کے مساوی تنخواہ (Equal Pay) اور مکمل تحفظ جیسے بنیادی حقوق دلانے کی جدوجہد نہایت اہم اور وقت کی ضرورت تھی، کیونکہ ہمارے معاشرے میں کئی خواتین آج بھی ان بنیادی ترین سہولیات اور حقوق سے یکسر محروم ہیں۔ تاہم، انہوں نے تحریک کے موجودہ رخ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”بدقسمتی سے خواتین کے حقوق سے متعلق اصل اور سنجیدہ مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اب بحث کا رخ دیگر غیر ضروری معاملات کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔ اس سطحی بحث کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں جو حقیقی معاشی و سماجی تبدیلی آنی چاہیے، اس کا عمل بری طرح متاثر ہو جاتا ہے۔“

صنم سعید نے کام کی جگہوں پر خواتین کے حقوق اور صنفی برابری (Gender Equality) کے حوالے سے ایک انتہائی پختہ اور عملی موقف اپنایا۔ ان کے مطابق تبدیلی لانے کا مؤثر طریقہ یہ ہے:

  • مؤثر اور مثبت رابطہ: مثبت اندازِ گفتگو اور مضبوط کمیونیکیشن ہی معاشرے یا کسی بھی ادارے میں تبدیلی کی اصل کنجی ہے۔

  • حقوق کا منطقی مطالبہ: خواتین کو صرف اس جذباتی بنیاد پر اپنے مطالبات سامنے نہیں رکھنے چاہئیں کہ وہ ”عورت“ ہیں، بلکہ انہیں اپنے مؤقف کو ایک ٹھوس قانونی اور بنیادی انسانی حق کے طور پر پیش کرنا چاہیے اور اس کے حصول کے لیے عملی و قانونی جدوجہد کرنی چاہیے۔

صنم سعید کے اس مدلل انٹرویو نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد ان کے اس موقف کی تائید کر رہی ہے کہ حقوق کی تحریک کو نعروں کے بجائے تعلیم، وراثت اور تحفظ جیسے بنیادی اور حقیقی مسائل پر ہی مرکوز رہنا چاہیے تاکہ خواتین کو عملی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔