LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار پیپلز پارٹی کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کررہی ہے، عظمیٰ بخاری کا الزام بلاول بھٹو کی کشمیریوں سے بذریعہ ووٹ فیصلہ کرنے کی اپیل بانی پی ٹی آئی رہائی فورس معاملہ: سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر

تیرہ سالہ بچی راجستھان کے شاہی خاندان کی سربراہ نامزد

Web Desk

27 June 2026

بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع پالی میں برسوں پرانی شاہی روایت ٹوٹ گئی ہے، جہاں تاریخ میں پہلی بار کسی مرد کے بجائے ایک 13 سالہ لڑکی کو باقاعدہ طور پر روایتی شاہی خاندان کا وارث قرار دے دیا گیا ہے۔ راجستھان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ وارث کی نامزدگی کی یہ روایتی تقریب 17ویں صدی کے تاریخی مقام “کھیروا گڑھ قلعے” میں منعقد ہوئی، جس میں آس پاس کے علاقوں سے آئے ہوئے سینکڑوں دیہاتیوں اور معززین نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران 13 سالہ تیجسوی کماری جودھا کو ان کے والد ہریش چندر جودھا کی وفات کے بعد کھیروا گڑھ خاندان کا نیا قانونی اور روایتی وارث تسلیم کیا گیا۔

اس رسم کے دوران مذہبی منتر پڑھے گئے اور تیجسوی کو سب کے سامنے مسند پر بٹھایا گیا۔ بعد ازاں ان کے ماتھے پر تلک لگایا گیا اور سر پر روایتی گلابی پگڑی رکھی گئی۔ یہ پگڑی جودھپور مارواڑ کے سابق شاہی خاندان کی طرف سے خصوصی طور پر بھیجی گئی تھی، کیونکہ یہ علاقہ پرانے زمانے میں جودھپور سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ شاہی روایات کے مطابق یہ پگڑی سوگ کا مرحلہ ختم ہونے اور گھر کی چابیاں و ذمہ داریاں نئے وارث کو سونپنے کی علامت ہوتی ہے، مگر تاریخ میں پہلی بار یہ پگڑی کسی لڑکی کے سر کی زینت بنی۔ علاقے کے بزرگوں اور خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیجسوی کے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے خاندان اور اہل علاقہ نے مل کر یہ انقلابی فیصلہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شاہی خاندان میں گزشتہ 65 سال سے یہ رسم اسی لیے منعقد نہیں ہوئی تھی کیونکہ خاندان میں کوئی مرد وارث موجود نہیں تھا۔ مقامی لوگوں نے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے اور اسے بدلتے وقت کی ایک بہترین علامت قرار دیا ہے جہاں پرانی روایات بھی برقرار رہیں اور بیٹیوں کو برابری کا حق بھی ملا۔ شاہی خاندان کی نئی وارث تیجسوی کماری کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ پگڑی کی صورت میں ان پر جو نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، انہیں بھی احسن طریقے سے پورا کریں گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے والد کے اس خواب کو ہر صورت پورا کریں گی جو انہوں نے اپنے گاؤں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دیکھا تھا۔