LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع

تیرہ سالہ بچی راجستھان کے شاہی خاندان کی سربراہ نامزد

Web Desk

27 June 2026

بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع پالی میں برسوں پرانی شاہی روایت ٹوٹ گئی ہے، جہاں تاریخ میں پہلی بار کسی مرد کے بجائے ایک 13 سالہ لڑکی کو باقاعدہ طور پر روایتی شاہی خاندان کا وارث قرار دے دیا گیا ہے۔ راجستھان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ وارث کی نامزدگی کی یہ روایتی تقریب 17ویں صدی کے تاریخی مقام “کھیروا گڑھ قلعے” میں منعقد ہوئی، جس میں آس پاس کے علاقوں سے آئے ہوئے سینکڑوں دیہاتیوں اور معززین نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران 13 سالہ تیجسوی کماری جودھا کو ان کے والد ہریش چندر جودھا کی وفات کے بعد کھیروا گڑھ خاندان کا نیا قانونی اور روایتی وارث تسلیم کیا گیا۔

اس رسم کے دوران مذہبی منتر پڑھے گئے اور تیجسوی کو سب کے سامنے مسند پر بٹھایا گیا۔ بعد ازاں ان کے ماتھے پر تلک لگایا گیا اور سر پر روایتی گلابی پگڑی رکھی گئی۔ یہ پگڑی جودھپور مارواڑ کے سابق شاہی خاندان کی طرف سے خصوصی طور پر بھیجی گئی تھی، کیونکہ یہ علاقہ پرانے زمانے میں جودھپور سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ شاہی روایات کے مطابق یہ پگڑی سوگ کا مرحلہ ختم ہونے اور گھر کی چابیاں و ذمہ داریاں نئے وارث کو سونپنے کی علامت ہوتی ہے، مگر تاریخ میں پہلی بار یہ پگڑی کسی لڑکی کے سر کی زینت بنی۔ علاقے کے بزرگوں اور خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیجسوی کے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے خاندان اور اہل علاقہ نے مل کر یہ انقلابی فیصلہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شاہی خاندان میں گزشتہ 65 سال سے یہ رسم اسی لیے منعقد نہیں ہوئی تھی کیونکہ خاندان میں کوئی مرد وارث موجود نہیں تھا۔ مقامی لوگوں نے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے اور اسے بدلتے وقت کی ایک بہترین علامت قرار دیا ہے جہاں پرانی روایات بھی برقرار رہیں اور بیٹیوں کو برابری کا حق بھی ملا۔ شاہی خاندان کی نئی وارث تیجسوی کماری کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ پگڑی کی صورت میں ان پر جو نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، انہیں بھی احسن طریقے سے پورا کریں گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے والد کے اس خواب کو ہر صورت پورا کریں گی جو انہوں نے اپنے گاؤں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دیکھا تھا۔