اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال
Web Desk
20 September 2026
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد تمام انتظامی اختیارات اور مالیاتی وسائل چاروں وزرائے اعلیٰ کے پاس مرکوز ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ اس ترمیم کے بعد پاکستان عملاً چار صوبوں کے بجائے چار آزاد ریاستوں کا روپ دھار چکا ہے، اور موجودہ فرسودہ نظامِ حکومت کے تحت اب ملک کو آگے نہیں چلایا جا سکتا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چاروں صوبائی حکومتیں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہی ہیں، جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کے ساتھ ساتھ پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضرورتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام اب کوئی محض سیاسی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے ایک ناگزیر مجبوری بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کا پیسہ براہِ راست اسی علاقے پر خرچ ہوگا، جعلی ڈومیسائل کے ذریعے میرٹ کی پامالی ختم ہوگی، اور نوجوانوں کو انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے منظم انداز میں آواز اٹھانی ہوگی۔
متعلقہ عنوانات
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ
20 September 2026
کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم
20 September 2026
شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ
20 September 2026
نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال
20 September 2026
الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش
20 September 2026
جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
20 September 2026
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت
20 September 2026
زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق
20 September 2026