LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع

نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال

Web Desk

20 September 2026

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری جعفر اقبال نے اپنے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل، صدارتی نظام اور بلدیاتی نظام کے نفاذ میں اب زیادہ دیر باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص بہاولپور اور اسلام آباد کو صوبے بنانے میں کوئی آئینی یا انتظامی رکاوٹ موجود نہیں ہے اور حکومت کو بلا تاخیر ان کے قیام کا فیصلہ کر لینا چاہیے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ سال 2012 میں پنجاب اسمبلی سے بہاولپور صوبے کی بحالی اور قیام کے حق میں باقاعدہ قرارداد بھی منظور کی جا چکی ہے۔

سینیٹر چودھری جعفر اقبال نے مزید کہا کہ نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی راہ میں اصل رکاوٹ ملک کا جاگیردارانہ طبقہ ہے، کیونکہ انہیں اپنی صدیوں پرانی بادشاہت اور سیاسی اثر و رسوخ ختم ہونے کا شدید خوف لاحق ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) گزشتہ 12 برسوں سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جا سکیں۔