LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

ایک صدی بعد چیتے کے نقش و نگار والی جنگلی بلی کی نئی نوع دریافت

Web Desk

19 September 2026

بولیویا میں محققین نے سائنس کی دنیا میں ایک بڑی اور حیران کن پیشرفت کرتے ہوئے ایک صدی سے زائد عرصے میں پہلی بار جنگلی بلی کی ایک بالکل نئی نوع (Species) دریافت کی ہے۔ چیتے جیسے چتکبرے کوٹ اور محض 45 سینٹی میٹر جسامت والی اس چھوٹی جنگلی بلی کو ‘تلکائیو ٹائیگر کیٹ’ (نامی سائنسی نام Leopardus tlicayo) کا نام دیا گیا ہے، جو بولیویا کے دارالحکومت لاپاز کے قریب یونگاس کے پہاڑی خطے سے دریافت ہوئی ہے۔

نیشنل جیوگرافک کی ایکسپلورر اور بائیولوجسٹ پاولا نوگالیس اسکارونز کے مطابق، 1923ء میں دریافت ہونے والی ‘یوراگوئین پیمپاس کیٹ’ کے بعد گزشتہ 100 سالوں کے دوران جنگلی بلی کی یہ پہلی نئی نوع سامنے آئی ہے۔ بولیویا کے اینڈیز پہاڑی سلسلے کے مقامی لوگ اس نایاب جانور کو عام گھریلو بلی سمجھتے تھے، تاہم 2021ء سے جاری تحقیق اور جدید جینیاتی (Genomic) جانچ کے بعد سائنسی جریدے ‘کرنٹ بائیولوجی’ میں اس کے نئی نوع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ فی الحال یہ نایاب مخلوق صرف بولیویا میں ہی دیکھی گئی ہے اور سائنس دانوں نے محدود تعداد کے باعث اسے شدید خطرے سے دوچار مخلوق قرار دینے کی سفارش کی ہے۔