LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بغیر کھڑکیوں والا حیرت انگیز جدید مسافر طیارے کی تیاری پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان پیرس میں بچوں کے جنسی استحصال نیٹ ورک, بھارتی شہری کو 20 سال قید اسلام آباد؛ طالبہ کو فراڈ سے موت کے منہ میں پہنچانے والا ملزم گرفتار، مقدمہ بھی درج آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکراگیا؛ خوفناک آگ بھڑک اُٹھی مولانا فضل الرحمان کا وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی سے رابطہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی میں شمولیت پر غور ریاض ایئرپورٹ حملہ، پروازیں منسوخ، کینیڈا سمیت متعدد ممالک کی سفری ہدایات امریکا میں فائرنگ کا ہولناک واقعہ، 9 افراد ہلاک، 2 بچے بھی شامل صوابی میں ہمارا پلان سن کر مخالفین کے ہوش اڑ جائیں گے، سہیل آفریدی کراچی؛ آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن امریکی حملوں کا جواب دینے کیلیے ایران نے روس کی مدد سے میزائل اور ڈرون پروگرام بحال کرلیے اگر امریکا دوبارہ حملے کرتا ہے تو ایران مؤثر جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ٹانک میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈی جی الیکشن کمیشن شمشاد خان شہید بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک بھارت: الیکشن کمشنر کیخلاف احتجاج پر پولیس کا کریک ڈاؤن، اہم سیاسی رہنماؤں سمیت سیکڑوں مظاہرین زیر حراست

برطانیہ سے علیحدگی کی مہم تیز، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا آزادی کا مطالبہ

Web Desk

14 September 2026

برطانیہ سے علیحدگی کی مہم میں اس وقت ایک بڑی تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے جب اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے قوم پرست رہنماؤں نے باضابطہ طور پر حقِ خودارادیت کے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کر دیے ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، ویلز کے دارالحکومت کارڈف میں تینوں خطوں کے قوم پرست رہنماؤں کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مملکتِ متحدہ (یو کے) سے الگ ہو کر اپنی اقوام کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں بریگزٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے نے ان تینوں خطوں کی معیشتوں کو سخت نقصان پہنچایا اور مقامی عوام کے لیے روزگار و ترقی کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔ اعلامیے میں لندن میں قائم مرکزی برطانوی پارلیمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ “ویسٹ منسٹر کی حکمرانی کا وقت اب ختم ہونے کے قریب ہے”، اور کسی بھی مرکزی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ جمہوری عمل کو روکے یا ان اقوام کے اپنے مستقبل کا خود انتخاب کرنے کے بنیادی حق کو کمزور کرے۔

تینوں خطوں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئینی تبدیلی کے متوقع عمل میں روڑے اٹکانے کے بجائے آئندہ کی منصوبہ بندی اور پرامن منتقلی کے لیے سہولت فراہم کرے۔ قوم پرست رہنماؤں کی اس متحدہ پیشرفت کو برطانیہ کی سالہا سال پرانی یونین کے لیے ایک سنگین اور بے مثال آئینی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔