LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کے حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر تین میزائل حملے، 53 افراد جاں بحق جرمنی کا یہودی شخصیات کے قتل کی مبینہ سازش پر ایرانی سفیر سے سخت احتجاج ایلون مسک کا اگلے سال امریکہ کے ہر بچے کو سپیس ایکس کے حصص دینے کا اعلان جنگ کے اخراجات نے ایران کے دشمنوں کو مایوسی سے دوچار کر دیا: محمد مخبر نومنتخب سعودی سفیر کی جی ایچ کیو آمد: فیلڈ مارشل سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال ٹرمپ کی جانب سے روس پر مجوزہ پابندیاں ختم کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی قطر نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی، پاکستان سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے: محسن نقوی پاور اور گیس شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 5306 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا شہباز شریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو وزیراعظم ہاؤس طلب کر لیا قطر کا جلد نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کے اعلان کا فیصلہ فضل الرحمان سیاسی مقاصد کیلئے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں: حنیف عباسی حملوں کا خطرہ، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ پنجاب حکومت کا جاسوسی کے آلات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سینیٹ میں عائلی قوانین، نجی سکیورٹی گارڈز کے حقوق سمیت 9 بل پیش حیدرآباد کا 38 سالہ شخص ریبیز کے باعث انتقال کرگیا

پبلک چارج قانون میں توسیع پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع: نیویارک سٹی کی قیادت میں امریکی شہروں کا مقدمہ دائر

Web Desk

14 September 2026

نیویارک سٹی نے امریکا کے متعدد دیگر بڑے شہروں کے ساتھ مل کر ٹرمپ انتظامیہ کے گرین کارڈ کے حوالے سے نئے ‘پبلک چارج’ قانون کے خلاف مینہیٹن کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے اعلان کیا کہ شکاگو، سان فرانسسکو، سیئٹل اور واشنگٹن ڈی سی سمیت دیگر مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر 108 صفحات پر مشتمل درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں 18 ستمبر سے نافذ ہونے والے اس نئے قانون اور یو ایس سی آئی ایس (USCIS) کی نئی گائیڈ لائنز کو غیر قانونی قرار دے کر فوری طور پر منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

نئے وفاقی قواعد و ضوابط کے تحت، امریکی امیگریشن حکام کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ گرین کارڈ کی درخواستوں پر فیصلہ کرتے وقت اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا درخواست دہندہ نے میڈیکل، ہاؤسنگ، فوڈ سٹیمپ (راشن)، ڈگریز کے لیے تعلیمی مالی امداد یا کسی بھی قسم کی سرکاری مراعات کا استعمال کیا ہے یا نہیں۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد تارکینِ وطن کو خود کفیل بنانا اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر ان کا انحصار کم کرنا ہے، تاہم نیویارک سٹی کے کارپوریشن کونسل سٹیو بینکس اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے واضح کیا کہ انتظامیہ کانگریس کے طے کردہ دائرہ اختیار سے تجاوز کر رہی ہے۔

میئر زوہران ممدانی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے نیویارک کی تقریباً 38 فیصد یعنی 31 لاکھ سے زائد غیر ملکی آبادی شدید متاثر ہوگی اور قانونی حق رکھنے کے باوجود خوف کے باعث لوگ صحت و خوراک کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے۔ مدعی شہروں نے ایڈمنسٹریٹو پروسیجر ایکٹ (APA) کے تحت عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے قانون کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ساتھ نوٹس اور عوامی ردعمل کے طے شدہ آئینی و قانونی طریقہ کار کو بھی یکسر نظر انداز کیا ہے، جس سے لاکھوں خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔