LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

قومی اقتصادی سروے: صحت پر اخراجات میں کمی، خواندگی میں بہتری

Web Desk

12 June 2026

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نئے قومی اقتصادی سروے (Economic Survey) کے مطابق، ملک میں صحت کے شعبے پر ہونے والے سرکاری اخراجات میں کمی کا تشویشناک رجحان برقرار ہے۔ سروے کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی (GDP) کا 0.9 فیصد صحت پر خرچ کیا گیا تھا، جو رواں سال مزید کم ہو کر جی ڈی پی کے صرف 0.8 فیصد تک محدود رہ گیا ہے۔ اس بجٹ کٹوتی کے باوجود ملک کے طبی انفراسٹرکچر، افرادی قوت اور تعلیمی شعبے میں کچھ مثبت اشاریے بھی سامنے آئے ہیں۔اقتصادی سروے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق جاری کردہ تفصیلی اعداد و شمار درج ذیل ہیں:ہیلتھ انفراسٹرکچر اور اوسط عمر میں اضافہنئے ہسپتال اور بی ایچ یوز: ایک سال کے دوران ملک بھر میں 238 نئے ہسپتال قائم کیے گئے، جس سے ہسپتالوں کی مجموعی تعداد 1,696 سے بڑھ کر 1,934 ہو گئی ہے۔ اسی طرح بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) میں 312 یونٹس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کی کل تعداد 5,746 تک پہنچ گئی ہے۔نوزائیدہ بچوں کی اموات: ملک میں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات 47 بچے فی ہزار ریکارڈ کی گئی ہے۔اوسط متوقع عمر (Life Expectancy): پاکستانیوں کی اوسط عمر میں 0.2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں اوسط متوقع عمر اب 67.8 سال ہو گئی ہے۔طبی افرادی قوت (میڈیکل اسٹاف) میں اضافہرپورٹ کے مطابق، سال 2025ء کے دوران ملک میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے:طبی شعبہ / افرادی قوتموجودہ تعداد (2025ء)گزشتہ تعداد (2024ء)اضافے کی شرحرجسٹرڈ ڈاکٹرز3,36,5823,19,5725.3%رجسٹرڈ ڈینٹسٹس42,118—7.8%نرسز1,38,391——رجسٹرڈ دائیاں (Midwives)46,801——لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHWs)29,163——تعلیم اور شرحِ خواندگی (Literacy Rate) کی صورتحالاقتصادی سروے میں تعلیم کے شعبے میں کچھ مثبت پیش رفت کی نشان دہی کی گئی ہے، تاہم چائلڈ ایجوکیشن کے حوالے سے اب بھی بڑے چیلنجز موجود ہیں:خواندگی کی شرح: ملک میں پڑھے لکھے افراد کی تعداد میں 2.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی شرحِ خواندگی 60.6 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اعلیٰ تعلیم (یونیورسٹیاں): ملک بھر میں 9 نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں، جس کے بعد فعال یونیورسٹیوں کی مجموعی تعداد 278 ہو گئی ہے۔آؤٹ آف اسکول چلڈرن (ایک بڑا چیلنج):معاشی سروے کے ان تمام مثبت اشاریوں کے باوجود، ملک کے تعلیمی نظام کے لیے سب سے بڑا لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ پاکستان میں اب بھی 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر (Out of School) ہیں، جنہیں تعلیمی نیٹ ورک میں شامل کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ایک بڑا ہدف ہے۔