قومی اقتصادی سروے: صحت پر اخراجات میں کمی، خواندگی میں بہتری
Web Desk
12 June 2026
اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نئے قومی اقتصادی سروے (Economic Survey) کے مطابق، ملک میں صحت کے شعبے پر ہونے والے سرکاری اخراجات میں کمی کا تشویشناک رجحان برقرار ہے۔ سروے کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی (GDP) کا 0.9 فیصد صحت پر خرچ کیا گیا تھا، جو رواں سال مزید کم ہو کر جی ڈی پی کے صرف 0.8 فیصد تک محدود رہ گیا ہے۔ اس بجٹ کٹوتی کے باوجود ملک کے طبی انفراسٹرکچر، افرادی قوت اور تعلیمی شعبے میں کچھ مثبت اشاریے بھی سامنے آئے ہیں۔اقتصادی سروے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق جاری کردہ تفصیلی اعداد و شمار درج ذیل ہیں:ہیلتھ انفراسٹرکچر اور اوسط عمر میں اضافہنئے ہسپتال اور بی ایچ یوز: ایک سال کے دوران ملک بھر میں 238 نئے ہسپتال قائم کیے گئے، جس سے ہسپتالوں کی مجموعی تعداد 1,696 سے بڑھ کر 1,934 ہو گئی ہے۔ اسی طرح بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) میں 312 یونٹس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کی کل تعداد 5,746 تک پہنچ گئی ہے۔نوزائیدہ بچوں کی اموات: ملک میں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات 47 بچے فی ہزار ریکارڈ کی گئی ہے۔اوسط متوقع عمر (Life Expectancy): پاکستانیوں کی اوسط عمر میں 0.2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں اوسط متوقع عمر اب 67.8 سال ہو گئی ہے۔طبی افرادی قوت (میڈیکل اسٹاف) میں اضافہرپورٹ کے مطابق، سال 2025ء کے دوران ملک میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے:طبی شعبہ / افرادی قوتموجودہ تعداد (2025ء)گزشتہ تعداد (2024ء)اضافے کی شرحرجسٹرڈ ڈاکٹرز3,36,5823,19,5725.3%رجسٹرڈ ڈینٹسٹس42,118—7.8%نرسز1,38,391——رجسٹرڈ دائیاں (Midwives)46,801——لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHWs)29,163——تعلیم اور شرحِ خواندگی (Literacy Rate) کی صورتحالاقتصادی سروے میں تعلیم کے شعبے میں کچھ مثبت پیش رفت کی نشان دہی کی گئی ہے، تاہم چائلڈ ایجوکیشن کے حوالے سے اب بھی بڑے چیلنجز موجود ہیں:خواندگی کی شرح: ملک میں پڑھے لکھے افراد کی تعداد میں 2.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی شرحِ خواندگی 60.6 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اعلیٰ تعلیم (یونیورسٹیاں): ملک بھر میں 9 نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں، جس کے بعد فعال یونیورسٹیوں کی مجموعی تعداد 278 ہو گئی ہے۔آؤٹ آف اسکول چلڈرن (ایک بڑا چیلنج):معاشی سروے کے ان تمام مثبت اشاریوں کے باوجود، ملک کے تعلیمی نظام کے لیے سب سے بڑا لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ پاکستان میں اب بھی 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر (Out of School) ہیں، جنہیں تعلیمی نیٹ ورک میں شامل کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ایک بڑا ہدف ہے۔
متعلقہ عنوانات
یو اے ای نے بریسٹ کینسر کی نئی دوا ’ایٹکا ماہ‘ کی منظوری دیدی
12 June 2026
پاکستان:بہاولپور میں منکی پاکس وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ
11 June 2026
بلوچستان میں 23 ہڑتالی ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس
11 June 2026
شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے جا رہے ہیں: مصطفیٰ کمال
11 June 2026
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا بڑا اعلان؛ وفاق میں ‘صحت سہولت پروگرام’ کا دوبارہ آغاز
10 June 2026
تربت میں 120 بستروں پر مشتمل ایف سی ہسپتال عوام کیلئے کھول دیا گیا
10 June 2026
میڈیکل یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کی تقرری کی حد عمر 75 سال کرنے کا فیصلہ
9 June 2026
ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ کارکردگی، صحت کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں
9 June 2026