LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ

وزن کم کرنے والی ادویات نشے کی طلب کم کرنے میں بھی مددگار!

Web Desk

13 August 2026

وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دنیا کی معروف ادویات اوزیمپک (Ozempic) اور ویگووی (Wegovy) سے متعلق ایک نئی سائنسی تحقیق نے ان کے حیران کن فوائد کا نیا پہلو پیش کیا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ ادویات نہ صرف بھوک پر قابو پا کر وزن گھٹاتی ہیں، بلکہ الکوحل (شراب) اور دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال کی شدید خواہش (Cravings) کو بھی نمایاں حد تک کم کر سکتی ہیں۔

یہ ادویات جی ایل پی-1 (GLP-1) ایگنسٹس کے گروپ سے تعلق رکھتی ہیں، جو اصل میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے لیے تیار کی گئی تھیں۔ یہ جسم کے قدرتی ہارمون GLP-1 کی نقل کرتے ہوئے انسولین کی مقدار بڑھاتی ہیں اور ہاضمے کا عمل سست کر کے پیٹ بھرے رہنے کا احساس برقرار رکھتی ہیں۔

دماغ کے ‘ریوارڈ سسٹم’ پر اثرات سائنسدانوں کے مطابق جب انسان کسی پسندیدہ کھانے یا نشہ آور شے کے بارے میں سوچتا ہے تو دماغ کا ریوارڈ سسٹم متحرک ہو کر شدید طلب پیدا کرتا ہے۔ یہی طلب زیادہ فعال ہو جائے تو موٹاپے اور نشے کی لت جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جی ایل پی-1 ادویات دماغ کے اسی ریوارڈ سسٹم کو اعتدال میں لاتی ہیں۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات اور انسانوں کے مشاہداتی ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے الکوحل کے علاوہ کوکین، افیون، نکوٹین (سگریٹ) اور ایمفیٹامین جیسی اشیا کی طلب میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ ادویات نشے کی بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔