LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

وزن کم کرنے والی ادویات نشے کی طلب کم کرنے میں بھی مددگار!

Web Desk

13 August 2026

وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دنیا کی معروف ادویات اوزیمپک (Ozempic) اور ویگووی (Wegovy) سے متعلق ایک نئی سائنسی تحقیق نے ان کے حیران کن فوائد کا نیا پہلو پیش کیا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ ادویات نہ صرف بھوک پر قابو پا کر وزن گھٹاتی ہیں، بلکہ الکوحل (شراب) اور دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال کی شدید خواہش (Cravings) کو بھی نمایاں حد تک کم کر سکتی ہیں۔

یہ ادویات جی ایل پی-1 (GLP-1) ایگنسٹس کے گروپ سے تعلق رکھتی ہیں، جو اصل میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے لیے تیار کی گئی تھیں۔ یہ جسم کے قدرتی ہارمون GLP-1 کی نقل کرتے ہوئے انسولین کی مقدار بڑھاتی ہیں اور ہاضمے کا عمل سست کر کے پیٹ بھرے رہنے کا احساس برقرار رکھتی ہیں۔

دماغ کے ‘ریوارڈ سسٹم’ پر اثرات سائنسدانوں کے مطابق جب انسان کسی پسندیدہ کھانے یا نشہ آور شے کے بارے میں سوچتا ہے تو دماغ کا ریوارڈ سسٹم متحرک ہو کر شدید طلب پیدا کرتا ہے۔ یہی طلب زیادہ فعال ہو جائے تو موٹاپے اور نشے کی لت جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جی ایل پی-1 ادویات دماغ کے اسی ریوارڈ سسٹم کو اعتدال میں لاتی ہیں۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات اور انسانوں کے مشاہداتی ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے الکوحل کے علاوہ کوکین، افیون، نکوٹین (سگریٹ) اور ایمفیٹامین جیسی اشیا کی طلب میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ ادویات نشے کی بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔