LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایکس کی بڑی پیشکش : صرف اسکرولنگ سے ہزاروں ڈالر کمائیں پاکستان میں زیر تعلیم 38 فلسطینی طلبہ نے بی ڈی ایس کی ڈگری مکمل کر لی حیدرآباد میں تیزگام ایکسپریس کی ایک بوگی پٹڑی سے اتر گئی، ٹریک متاثر اسحاق ڈار سے اردنی وزیر خارجہ کا رابطہ، غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کویت کے وزیر خارجہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے واشنگٹن میں نیتن یاہو کی آمد پر احتجاج، مظاہرین نے گرفتاری کا مطالبہ کر دیا پٹرول 1 روپے 63 پیسے، ڈیزل 1 روپے 55 پیسے فی لٹر مہنگا پُرتشدد جتھے کے عزائم ناکام بنا دیئے، کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دینگے: عطا تارڑ ایران کی منجمد اثاثے حاصل کرنیوالے ممالک، کمپنیوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان نیتن یاہو جنگ میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ لیگی قیادت کی تنقید پر شیری رحمان کا سخت ردعمل، انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرا دیے آزاد کشمیر احتجاج کے پیچھے بھارتی سپانسرڈ لوگ ہیں: خواجہ آصف این ڈی ایم اے کی رپورٹ: ملک بھر میں مون سون بارشوں سے 109 افراد جاں بحق، 362 زخمی بھارت میں موسلادھار بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی علاقے زیرِآب، 10افراد ہلاک سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر شدید تنقید، معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے

پمز ہسپتال 6ارب روپے کی لاگت سے نیا ٹراما سنٹر جلد مکمل ہو جائے گا،وفاقی وزیر صحت

Web Desk

20 November 2025

وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے پمز ہسپتال میں 6 ارب روپے کی لاگت سے نیا ٹراما سنٹر جلد مکمل ہو جائے گا۔ پمز میں زیر تعمیر نئے ٹراما سنٹر کی عمارت کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں وزیر صحت نے بتایا کہ پمز ہسپتال پر مریضوں کا رش بہت زیادہ ہے اور راولپنڈی، اسلام آباد کے علاوہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر سے بھی بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے یہاں آتے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ جدید ہسپتال بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیماریوں سے پیشگی بچاؤ کی طرف راغب کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے بنیادی صحت مراکز کو مضبوط بنانے کے لیے بلدیاتی نظام کی بہتری لازمی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ پمز میں 35 بستروں پر مشتمل ایمرجنسی یا ٹراما سنٹر کام کر رہا ہے، جبکہ نیا ٹراما سنٹر 177 بستروں پر مشتمل ہوگا۔ انہوں نے نئے ٹراما سنٹر کی عمارت کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور کام کی رفتار کا جائزہ لیا، جسے جلد فعال کر دیا جائے گا۔
وزیر صحت نے کہا کہ ہمارے وسائل محدود ہیں لیکن بیماریوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے، اس لیے اچھی سہولیات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیماریوں سے بچانے کی حکمت عملی اپنانا بھی ضروری ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ 18 وین ترمیم کے تحت صحت کے شعبے صوبوں کو چلے گئے، صحت اور تعلیم صوبوں کے پاس ہے اور صوبوں کے پاس رہنی چائیے، پاپولشن کی وزارت اور قومی نصاب وفاق کے پاس لانے کی تجویز پر بات ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کونسلر اور منتخب نمائندوں کا کام ہے گلی محلے کی صفائی، صاف پانی فراہمی. اور مقامی صحت نظام کو ٹھیک کرنا ، آپ کوٹھوس بنیادوں پر مقامی حکومتوں کا نظام بنانا ہوگا ،وہ ایسا نظام بنائیں جو بیماریوں سے بچائے گا۔آج ہم دیار غیر جانے کے لئے ویزوں کی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں، وہ قومیں 500 سال پہلے وہ کام کرچکی ہیں جو ہم آج کررہے ہیں، لندن،نیویارک،شنگھائی ایک دن بھی مئیر کے بغیر نہیں چل سکتے، یہاں ایسا فعال اور موثر نظام ہی نہیں اس پر بات ہونی چائیے