LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

خلا سے سمندری تہہ کیسی نظر آتی ہے؟ ناسا نے تصویری جواب جاری کردیا

Web Desk

27 March 2026

واشنگٹن: سائنسی دنیا میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ انسان چاند کی سطح کے بارے میں سمندروں کی گہرائی سے زیادہ معلومات رکھتا ہے، لیکن اب امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) نے اس تصور کو بدلنے کی ٹھان لی ہے۔ ناسا نے سمندری تہہ کا ایک نیا اور تفصیلی نقشہ جاری کیا ہے جس کی تیاری میں خلا سے جمع کیے گئے انتہائی درست ڈیٹا کو استعمال کیا گیا ہے۔

اس عظیم الشان منصوبے کا مقصد رواں دہائی کے اختتام (2030) تک زمین کے تمام سمندروں کی تہہ کا ایک جامع اور تفصیلی نقشہ تیار کرنا ہے۔ یہ نیا نقشہ سرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی (SWOT) سیٹلائٹ کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، جو ناسا اور فرانسیسی خلائی ادارے (CNES) کا ایک مشترکہ مشن ہے۔ دسمبر 2022 میں لانچ کیا گیا یہ سیٹلائٹ ہر 21 دن میں زمین کے 90 فیصد حصے کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ جدید ترین سیٹلائٹ نہ صرف سمندری تہہ کے خدوخال واضح کر رہا ہے بلکہ دنیا بھر کے سمندروں، جھیلوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح (Height) کی بھی مسلسل مانیٹرنگ کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سمندری تہہ کے نقشوں کی بدولت موسمیاتی تبدیلیوں، سمندری طوفانوں اور سمندری حیات کے بارے میں ایسے راز معلوم ہوں گے جو اب تک انسانوں سے پوشیدہ تھے۔