LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے: قمر زمان کائرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کار ثابت کر رہی ہے: گورنر کے پی

خلا سے سمندری تہہ کیسی نظر آتی ہے؟ ناسا نے تصویری جواب جاری کردیا

Web Desk

27 March 2026

واشنگٹن: سائنسی دنیا میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ انسان چاند کی سطح کے بارے میں سمندروں کی گہرائی سے زیادہ معلومات رکھتا ہے، لیکن اب امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) نے اس تصور کو بدلنے کی ٹھان لی ہے۔ ناسا نے سمندری تہہ کا ایک نیا اور تفصیلی نقشہ جاری کیا ہے جس کی تیاری میں خلا سے جمع کیے گئے انتہائی درست ڈیٹا کو استعمال کیا گیا ہے۔

اس عظیم الشان منصوبے کا مقصد رواں دہائی کے اختتام (2030) تک زمین کے تمام سمندروں کی تہہ کا ایک جامع اور تفصیلی نقشہ تیار کرنا ہے۔ یہ نیا نقشہ سرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی (SWOT) سیٹلائٹ کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، جو ناسا اور فرانسیسی خلائی ادارے (CNES) کا ایک مشترکہ مشن ہے۔ دسمبر 2022 میں لانچ کیا گیا یہ سیٹلائٹ ہر 21 دن میں زمین کے 90 فیصد حصے کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ جدید ترین سیٹلائٹ نہ صرف سمندری تہہ کے خدوخال واضح کر رہا ہے بلکہ دنیا بھر کے سمندروں، جھیلوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح (Height) کی بھی مسلسل مانیٹرنگ کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سمندری تہہ کے نقشوں کی بدولت موسمیاتی تبدیلیوں، سمندری طوفانوں اور سمندری حیات کے بارے میں ایسے راز معلوم ہوں گے جو اب تک انسانوں سے پوشیدہ تھے۔