LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت

خلا سے سمندری تہہ کیسی نظر آتی ہے؟ ناسا نے تصویری جواب جاری کردیا

Web Desk

27 March 2026

واشنگٹن: سائنسی دنیا میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ انسان چاند کی سطح کے بارے میں سمندروں کی گہرائی سے زیادہ معلومات رکھتا ہے، لیکن اب امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) نے اس تصور کو بدلنے کی ٹھان لی ہے۔ ناسا نے سمندری تہہ کا ایک نیا اور تفصیلی نقشہ جاری کیا ہے جس کی تیاری میں خلا سے جمع کیے گئے انتہائی درست ڈیٹا کو استعمال کیا گیا ہے۔

اس عظیم الشان منصوبے کا مقصد رواں دہائی کے اختتام (2030) تک زمین کے تمام سمندروں کی تہہ کا ایک جامع اور تفصیلی نقشہ تیار کرنا ہے۔ یہ نیا نقشہ سرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی (SWOT) سیٹلائٹ کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، جو ناسا اور فرانسیسی خلائی ادارے (CNES) کا ایک مشترکہ مشن ہے۔ دسمبر 2022 میں لانچ کیا گیا یہ سیٹلائٹ ہر 21 دن میں زمین کے 90 فیصد حصے کو اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ جدید ترین سیٹلائٹ نہ صرف سمندری تہہ کے خدوخال واضح کر رہا ہے بلکہ دنیا بھر کے سمندروں، جھیلوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح (Height) کی بھی مسلسل مانیٹرنگ کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سمندری تہہ کے نقشوں کی بدولت موسمیاتی تبدیلیوں، سمندری طوفانوں اور سمندری حیات کے بارے میں ایسے راز معلوم ہوں گے جو اب تک انسانوں سے پوشیدہ تھے۔