پاکستان کو مصر کی طرح ہیپاٹائٹس فری بنانا ہے”؛ وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزیراعظم ہیپاٹائٹس سی پروگرام کا اہم اجلاس
Web Desk
4 June 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک کو ہیپاٹائٹس سی سے پاک کرنا ہمارا اہم قومی مقصد ہے اور پاکستان نے اس موذی بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے مصر کے کامیاب ماڈل کو اپنایا ہے، جس طرح مصر نے کامیابی حاصل کی اسی طرح ہم نے بھی اپنے ملک کو ‘ہیپاٹائٹس سی فری’ بنانا ہے۔
یہ بات انہوں نے “وزیراعظم پروگرام برائے ہیپاٹائیٹس سی” کے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس اہم اجلاس میں وفاقی سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری، سی او نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)، وفاقی ہسپتالوں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈائریکٹر پروگرام نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کے حوالے سے ہونے والی اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پروگرام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے لائے اور کہا ملک میں اس وقت ہیپاٹائیٹس سی کے تقریباً ایک کروڑ سے زائد مریض موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم ہیپاٹائیٹس سی پروگرام غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ہیپاٹائیٹس سی کے خلاف جنگ میں تمام اداروں کا مربوط کردار ناگزیر ہے کیونکہ یہ صرف ایک عام سرکاری پروگرام نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک عظیم مہم ہے۔ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرتے ہوئے اس بیماری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنائیں۔
مصطفیٰ کمال نے حکام کو ہدایات جاری کیں کہ عوامی آگاہی مہم (Public Awareness Campaign) کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی اسکریننگ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائیٹس سی کے کیریئرز کی بروقت نشاندہی اور علاج کی بدولت ہی اس بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ وزیرِ صحت نے اصرار کیا کہ اسکریننگ کے عمل کو انتہائی تیز اور آسان بنایا جائے تاکہ عام آدمی اس سے مستفید ہو سکے، جبکہ ٹیسٹ مثبت آنے والے مریضوں کے بروقت اور فوری علاج کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے عوام سے مخلصانہ اپیل کرتے ہوئے کہا”اسلام آباد کے شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ دارالحکومت میں قائم کردہ 15 ہیلتھ فیسلیٹیز (صحت کے مراکز) سے رجوع کریں اور وہاں جا کر اپنا ہیپاٹائیٹس سی کا ٹیسٹ بالکل مفت کروائیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ ہر شہری کی انفرادی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اپنا ٹیسٹ کروائے اور اپنے خاندان و اردگرد کے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دے تاکہ ایک صحت مند پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق
31 July 2026
مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ، ماہرین کا انتباہ
31 July 2026
ملک کے جنوبی علاقوں میں ڈینگی وائرس پھیلنے کا امکان: ماہرین کا انتباہ
31 July 2026
ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔وفاقی وزیر صحت
31 July 2026
مون سون میں فالج کا خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں
30 July 2026
امریکن ریڈ کراس کا خون کے ذخائر کی دوسری قومی سطح کی قلت کا اعلان
30 July 2026
بیشتر معمر افراد 8 گھنٹے تک سونے کے باوجود پُر سکون نیند سے محروم
30 July 2026
ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی ادویات تیار کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب
29 July 2026