LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے امریکا کا ایران کی بحری ناکہ بندی میں مزید 20 تجارتی جہاز واپس موڑنے کا دعویٰ امریکن ریڈ کراس کا خون کے ذخائر کی دوسری قومی سطح کی قلت کا اعلان کیئیکو فوجیموری نے پیرو کی صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا امریکی فوج کا لاک ہیڈ مارٹن کیساتھ انٹر سیپٹر میزائلز کی تیاری کیلئے 58.6 ارب ڈالر کا معاہدہ چین نے امریکا کی جانب سے تحقیقاتی اداروں پر عائد پابندیوں کی مخالفت کر دی سائبر فراڈ کے مراکز میں کام کیلئے لوگوں کو ورغلانے کے رجحان میں اضافہ ہوا: اقوام متحدہ سعودی وزیر دفاع کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران سے کشیدگی میں کمی کا اعادہ

پنجاب میں کھانسی کے کئی شربت اور ادویات ناقص قرار

Web Desk

21 November 2025

پنجاب ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے عام استعمال کی کئی ادویات، خصوصاً کھانسی کے شربتوں کی متعدد بیچز کو ناقابل معیار قرار دیتے ہوئے ان کی فروخت پر فوری پابندی عائد کردی ہے۔

اتھارٹی کی طرف سے شہریوں، دکان داروں اور ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان خطرناک مصنوعات کو فوری طور پر واپس کریں۔

اتھارٹی کے باضابطہ الرٹ میں ان ادویات کے نام اور بیچ نمبر جاری کیے گئے ہیں، جن میں سب سے خطرناک ایریکوف کف سیرپ ہے، جس میں ڈائی ایتھائلین گلائیکول کی زائد مقدار پائی گئی ہے، یہ ایک زہریلا کیمیکل ہے جو انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ اس شربت کی فوری واپسی کا حکم دیا گیا ہے۔

پابندی کی زد میں آنے والی دیگر ادویات میں لوراٹیڈائن 10 ملی گرام کی گولیاں، سیف میڈ 100 ملی گرام اور مختلف مرہم شامل ہیں، حکام نے خبردار کیا ہے کہ جن کے پاس بھی یہ بیچز موجود ہوں وہ انہیں بلا تاخیر واپس کریں۔

دوسری جانب ہسپتالوں میں نزلہ، کھانسی، ڈینگی اور ملیریا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے صحت عامہ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔