LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے امریکا کا ایران کی بحری ناکہ بندی میں مزید 20 تجارتی جہاز واپس موڑنے کا دعویٰ امریکن ریڈ کراس کا خون کے ذخائر کی دوسری قومی سطح کی قلت کا اعلان کیئیکو فوجیموری نے پیرو کی صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا امریکی فوج کا لاک ہیڈ مارٹن کیساتھ انٹر سیپٹر میزائلز کی تیاری کیلئے 58.6 ارب ڈالر کا معاہدہ چین نے امریکا کی جانب سے تحقیقاتی اداروں پر عائد پابندیوں کی مخالفت کر دی سائبر فراڈ کے مراکز میں کام کیلئے لوگوں کو ورغلانے کے رجحان میں اضافہ ہوا: اقوام متحدہ سعودی وزیر دفاع کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران سے کشیدگی میں کمی کا اعادہ آئی ٹی خرابی: امریکی ایئرلائنز کی پروازیں عارضی طور پر معطل امریکی سینیٹ نے جے کلیٹن کو قومی انٹیلی جنس کا نیا سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دیدی سعودی ولی عہد کا سپین کے وزیراعظم سے رابطہ، حوثی حملوں کی شدید مذمت

سائبر فراڈ کے مراکز میں کام کیلئے لوگوں کو ورغلانے کے رجحان میں اضافہ ہوا: اقوام متحدہ

Web Desk

30 July 2026

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورکس لاکھوں افراد کو جعلی ملازمتوں کا جھانسہ دے کر سائبر فراڈ کے مراکز میں کام کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ 80 سے زائد ممالک کے انگریزی بولنے والے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو سوشل میڈیا کے ذریعے بیرون ملک پرکشش ملازمتوں کا لالچ دیا جاتا ہے۔ تاہم، ان کے پہنچتے ہی شناختی دستاویزات ضبط کر کے انہیں تشدد، دھمکیوں اور قرض کے بوجھ تلے سائبر کرائمز پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس قسم کا نیٹ ورک خاص طور پر ایشیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں گزشتہ چند سالوں میں ہزاروں متاثرین کو امداد فراہم کی گئی ہے جبکہ ان فراڈ کمپاؤنڈز کے باعث خطے کو اربوں ڈالر کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔