LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

خیبرپختونخوا؛ ڈاکٹروں کو دوائی کے نام کے بجائے فارمولہ لکھنے، کمپیوٹرائز نسخے کیلئے قانون سازی پرغور

Web Desk

7 August 2026

خیبرپختونخوا حکومت نے ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات کے تجارتی (برانڈ) ناموں کے بجائے محض ان کے فارمولے تحریر کرنے اور نسخہ جات کو کمپیوٹرائزڈ بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مریضوں کے معاشی استحصال کو روکنا اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔یہ پیش رفت خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی خاتون رکنِ صوبائی اسمبلی مہر سلطانہ کی جانب سے پیش کیے گئے توجه دلاؤ نوٹس پر سامنے آئی۔ انہوں نے ایوان میں موقف اپنایا کہ ملک میں فی الوقت کوئی ایسا جامع اور مؤثر قانون موجود نہیں جو معالجین کو پابند کر سکے کہ وہ برانڈ نام کے بجائے دوا کا جینیٹک (Generic) نام یا بنیادی فارمولہ لکھیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہاتھ سے تحریر کردہ نسخے پڑھنے میں دشواری اور برانڈز کی اجارہ داری کے باعث عوام کو مہنگی ادویات خریدنا پڑتی ہیں، جبکہ فارمولہ تحریر کرنے اور کمپیوٹرائزڈ نسخہ جات سے سستی اور معیاری ادویات کی رسائی ممکن ہو سکے گی۔