LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا؛ ڈاکٹروں کو دوائی کے نام کے بجائے فارمولہ لکھنے، کمپیوٹرائز نسخے کیلئے قانون سازی پرغور

Web Desk

7 August 2026

خیبرپختونخوا حکومت نے ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات کے تجارتی (برانڈ) ناموں کے بجائے محض ان کے فارمولے تحریر کرنے اور نسخہ جات کو کمپیوٹرائزڈ بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مریضوں کے معاشی استحصال کو روکنا اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔یہ پیش رفت خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی خاتون رکنِ صوبائی اسمبلی مہر سلطانہ کی جانب سے پیش کیے گئے توجه دلاؤ نوٹس پر سامنے آئی۔ انہوں نے ایوان میں موقف اپنایا کہ ملک میں فی الوقت کوئی ایسا جامع اور مؤثر قانون موجود نہیں جو معالجین کو پابند کر سکے کہ وہ برانڈ نام کے بجائے دوا کا جینیٹک (Generic) نام یا بنیادی فارمولہ لکھیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہاتھ سے تحریر کردہ نسخے پڑھنے میں دشواری اور برانڈز کی اجارہ داری کے باعث عوام کو مہنگی ادویات خریدنا پڑتی ہیں، جبکہ فارمولہ تحریر کرنے اور کمپیوٹرائزڈ نسخہ جات سے سستی اور معیاری ادویات کی رسائی ممکن ہو سکے گی۔