LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرولیم ڈیلرز کی حکومت کو 26 مارچ تک ڈیڈ لائن، مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں پمپ بند کرنے کی دھمکی ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری جمعة الوداع کے اجتماعات، یوم القدس کی ریلیاں، سکیورٹی ہائی الرٹ ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ گئیں مشرقِ وسطیٰ کیلئے پاکستان سے پروازوں کا آپریشن بتدریج بحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کر دیا امریکی ایندھن بردار طیارہ عراق میں گر کر تباہ، 6 افراد سوار تھے یوم القدس اور متوقع جمعۃ الوداع کے موقع پر سندھ میں آج سرکاری تعطیل ہوگی دبئی حکومت نے عیدالفطر کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کردیا

کراچی: مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی 14 گھنٹوں بعد لاش نکال لی گئی

Web Desk

1 December 2025

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی پر اتوار کی رات خریداری کے لیے آئی فیملی کا تین سالہ بچہ نبیل ایک ڈپارٹمنٹل سٹور کے باہر رات گیارہ بجے کھلے مین ہول (گٹر) میں گر گیا تھا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق ریسکیو آپریشن فوری شروع کیا گیا تھا، ڈائیونگ آلات کی عدم موجودگی کے باعث آپریشن دو گھنٹے کے لیے رک بھی گیا تھا جسے دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان نے بتایا تھا کہ ساڑھے گیارہ گھنٹے بلاتعطل ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے بعد اسے عارضی طور پر روک دیا گیا کیونکہ جب تک متعلقہ ادارے جائے وقوعہ پر نہیں پہنچتے آپریشن دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنے سنجیدہ واقعہ کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کر رہا تھا، کوئی انڈر واٹر ڈائی گرام موجود نہیں تو ہم جگہ جگہ کھدائی بھی نہیں کر سکتے تھے، تاہم ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر موجود تھی جس نے بچے کی دوبارہ تلاش شروع کر دی تھی۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ رات سے پانچ مقامات پر کھدائی کر کے بچے کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، متعلقہ محکموں کی عدم موجودگی کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور کے ایم سی کا عملہ بہت دیر کے بعد جائے حادثہ پر پہنچا۔

قبل ازیں ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ ان کے پاس کھدائی کے لیے مشینری نہیں، کسی ادارے کی طرف سے مشینری نہیں ملی، کسی بھی سرکاری ادارے کا افسر اس وقت موجود نہیں ہے، شروع میں کام کرنے والی مشینری بھی چلی گئی۔

ذرائع کے مطابق رات گئے ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی، جائے وقوعہ پر ہیوی مشینری کے ذریعے کھدائی جاری رہی۔

بچے کے والد کا کہناہےکہ شاپنگ کرکے نکلے تو بیٹا ہاتھ چھڑا کربھاگا، موٹر سائیکل مین ہول کے قریب پارک تھی، بیٹا آنکھوں کےسامنےگٹرمیں گرا، مین ہول پرڈھکنا نہیں تھا۔