امریکا کا ایران حملوں میں بربادی کے بعد عرب ممالک سے اپنے اڈے منتقل کرنے کا فیصلہ
Web Desk
26 June 2026
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک انتہائی سنسنی خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے عرب ممالک (بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین) میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے تابڑ توڑ میزائل اور ڈرون حملوں میں شدید فوجی نقصان اٹھانے کے بعد واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض فوجی اڈوں کو وہاں سے منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکہ اب ان فوجی اڈوں اور اثاثوں کا ایک بڑا حصہ مغربی ممالک منتقل کر دے گا جبکہ خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے کچھ حساس تنصیبات کو اسرائیل منتقل کرنے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جوابی فضائی کارروائیوں میں عرب خطے میں 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے واحد علاقائی اڈے “نیول سپورٹ ایکٹیویٹی” کو ایرانی حملوں میں تقریباً 40 کروڑ ڈالر کا بھاری مالی نقصان پہنچا، جس میں پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر، فوجی بیرکیں، متعدد گودام اور پینے کے پانی کا ذخیرہ شدید متاثر ہوئے، تاہم پینٹاگون نے اس نقصان کی مکمل تفصیلات عوام سے چھپائے رکھیں۔ امریکی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس (CSIS) کے مطابق، جنگ کے آغاز میں ایران کے ہاتھوں تباہ ہونے والے دو امریکی سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز کی مالیت ہی تقریباً 4 کروڑ ڈالر تھی، جبکہ تباہ ہونے والے دیگر حساس آلات اور مواصلاتی نظام کی لاگت شامل کرنے سے اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ بنتا ہے۔
اس شدید ترین دھچکے کے بعد اب امریکی حکام بحرین کے اڈے کی ازسرنو تعمیر کے بجائے کمانڈ سینٹرز کو زیرِ زمین منتقل کرنے اور بعض تباہ شدہ عمارات کو دوبارہ تعمیر نہ کرنے جیسے آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جبکہ کویت اور سعودی عرب میں بھی امریکی فوجی موجودگی کو انتہائی محدود کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ اس جنگ پر آنے والے بھاری اخراجات اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے کی وجہ سے اندرونِ ملک اور خود اپنی ریپبلکن پارٹی کے اندر شدید سیاسی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نقصانات کے ازالے اور دفاعی صلاحیتوں کی بحالی کے لیے کانگریس سے 80 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MOU) کے تحت 60 روزہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے اور وہ ایران کے جوہری پروگرام پر واضح رعایت نہ ہونے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں روکنے کی شرط پر اس امن عمل کی شدید مخالفت کر رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ٹرمپ کا ایران پر آبنائے ہرمز میں ڈرون حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
26 June 2026
جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید
26 June 2026
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری، نیچرل گیس معمولی مہنگی
26 June 2026
پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی
26 June 2026
روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ
26 June 2026
این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری
26 June 2026
نیویارک,یومِ عاشور کی مجلسِ عزا:ظہران ممدانی کی شرکت,امام حسینؓ کو خراجِ عقیدت
26 June 2026
ایران نے پڑوسی ممالک میں موجود اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
26 June 2026