LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری، نیچرل گیس معمولی مہنگی پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ امریکا کا ایران حملوں میں بربادی کے بعد عرب ممالک سے اپنے اڈے منتقل کرنے کا فیصلہ این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری نیویارک,یومِ عاشور کی مجلسِ عزا:ظہران ممدانی کی شرکت,امام حسینؓ کو خراجِ عقیدت ایران نے پڑوسی ممالک میں موجود اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا جاپان کا ایران، لبنان اور فلسطین کیلئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان روس کا یوکرین کے 660 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ حزب اللہ کا لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلا تک ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان ایران جنگ میں پاکستان کا کردار قیامت تک یاد رکھا جائے گا: خواجہ آصف امریکا ایران معاہدے کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی: سربراہ آئی اے ای اے واٹس ایپ نے صارفین کیلئے جدید حفاظتی فیچر متعارف کرا دیا برطانوی بادشاہ چارلس بکنگھم پیلس میں کیوں نہیں رہیں گے؟

پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی

Web Desk

26 June 2026

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جی سیون (G7) اور یورپی یونین کی جانب سے روسی تیل پر عائد کردہ ‘پرائس کیپ’ (قیمت کی حد) کے جواب میں سخت ترین فیصلہ کرتے ہوئے اپنی جوابی پابندیوں کی مدت میں 31 دسمبر 2027 تک توسیع کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ان ممالک کو برآمد پر مکمل پابندی رہے گی جو مغربی پرائس کیپ پر عمل کرتے ہیں۔ نئے صدارتی فرمان کے مطابق، روسی تیل یا اس سے تیار کردہ مصنوعات کسی بھی ایسے غیر ملکی فرد، ادارے یا کمپنی کو فروخت نہیں کی جائیں گی، جن کے تجارتی معاہدوں میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مغربی ممالک کے مقرر کردہ پرائس کیپ نظام کو تسلیم کیا گیا ہو۔ فرمان میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی سپلائی چین کے ہر مرحلے پر سخت انداز میں نافذ رہے گی اور آخری خریدار تک اس کا اطلاق برقرار رہے گا تاکہ کسی بھی صورت روسی تیل کی فروخت مغربی قیمت کی حد کے تحت ممکن نہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یہ جوابی پابندی 30 جون 2026 تک نافذ تھی، تاہم صدر پوتن کے نئے حکم نامے کے بعد اس کی مدت میں مزید ڈیڑھ سال سے زائد کی توسیع کر دی گئی ہے۔ روس نے یہ جوابی اقدامات پہلی مرتبہ یکم فروری 2023 کو متعارف کرائے تھے، جب جی سیون اور یورپی یونین نے یوکرین جنگ کے پس منظر میں روسی خام تیل کی برآمدات پر قیمت کی حد مقرر کی تھی۔ اس کے بعد سے روس کی جانب سے متعدد بار اس پابندی کی مدت میں توسیع کی جا چکی ہے۔