LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا ایران کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کا کردار سراہا گیا: گورنر پنجاب وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ماہ امریکا کا دورہ کریں گے وزیراعظم کی چھوٹے، درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی فیصلہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا: سہیل آفریدی کراچی کا یونیورسٹی روڈ 15 ستمبر تک 100 فیصد مکمل ہو جائے گا: شرجیل میمن پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی

کراچی اسکواش ٹورنامنٹ: ریفری سے نامناسب رویہ، مصری کھلاڑی مشکل میں

Web Desk

10 January 2026

کراچی انٹرنیشنل اسکواش ٹورنامنٹ میں ریفری کے خلاف نامناسب رویہ اختیار کرنے پر مصری کھلاڑی فیرس ڈیسوکی کو جرمانے اور ممکنہ پابندی کا سامنا ہے۔ بدتمیزی اور فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار پر پاکستانی ریفری سجاد خان نے واقعے کی رپورٹ پروفیشنل اسکواش ایسوسی ایشن (PSA) کو ارسال کر دی ہے۔

ڈی ایچ اے کریک کلب میں جاری ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ میں عالمی انڈر 23 چیمپئن اور عالمی نمبر 38 نور زمان کے خلاف میچ کے دوران مصر کے عالمی نمبر 15 فیرس ڈیسوکی نے ریفری کے فیصلے پر شدید اعتراض کیا۔ اس دوران مصری کھلاڑی نے ریفری کی قومیت کے بارے میں بھی سوال کیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

تیسرے گیم میں نور زمان کی 3-7 کی برتری پر فیرس ڈیسوکی نے فیصلے پر سخت غصے کا اظہار کیا۔ بار بار تنبیہ کے باوجود وہ کورٹ سے باہر آ کر بحث کرتے رہے اور شدید چیخ و پکار کی، جس پر ریفری نے قواعد کے مطابق فیصلہ سناتے ہوئے نور زمان کو 0-3 سے فاتح قرار دے دیا۔

میچ کے اختتام پر مصری کھلاڑی نے کورٹ سے نکلتے ہوئے نور زمان سے ہاتھ تو ملا لیا، تاہم ان کے رویے پر ٹورنامنٹ انتظامیہ اور اسکواش حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب عالمی انڈر 23 چیمپئن نور زمان نے کہا کہ ریفری سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن کھلاڑی کو ہر صورت اپنا رویہ بہتر رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میچ کا اس طرح ختم ہونا افسوسناک ہے۔