LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی باغیوں کیساتھ سیاسی مذاکرات سے مسئلے کا حل نکلنے کی توقع نہیں: ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نیب کے سہیل آفریدی کے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد سمیت 5 افراد کو طلبی کے نوٹس جاری متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق خیبرپختونخوا میں گورنر راج کسی لالچ میں نہیں لگایا گیا: شرجیل میمن امریکی صدر کی مقبولیت میں مزید ریکارڈ کمی، شرح 33 فیصد پر آگئی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کر دی وزیراعظم ایمرجنسی کے بعد منگل کو پشاور کا پہلا دورہ کریں گے، اہم اجلاس متوقع وزیراعلیٰ اور سپیکر خیبر پختونخوا کی گرفتاری جمہوریت نہیں: بیرسٹر گوہر مولانا کو سیاسی موقف رکھنے کا حق، معدنیات پر بات قبل از وقت ہے: رانا ثنا اللہ پاکستان اور لتھوانیا کا سیاسی مشاورت کا آٹھویں دور کا ورچوئل منعقد، تعاون بڑھانے پر اتفاق اسحاق ڈار کی تاجک وزیراعظم کے عشائیے میں شرکت، مختلف ممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں معمولی تنازع پر ٹھیکیدار نے گاڑی تلے کچل کر 15 سالہ محنت کش کی جان لے لی روس کا تہران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کا اعلان فرانس میں پرتشدد مظاہروں کے بعد جزوی کرفیو نافذ کرنے کا اعلان حوثیوں کے حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر تین میزائل حملے، 53 افراد جاں بحق

“ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی”، منفرد شاعر جون ایلیا کی 23ویں برسی آج

Web Desk

8 November 2025

بغاوت، تنہائی اور گہرے احساسات کے شاعر جون ایلیا کی 23ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ میں پیدا ہوئے اور اپنی نرالی سوچ اور منفرد اسلوب سے اردو ادب میں ایک الگ پہچان بنائی۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ “شاید“ 1991  میں شائع ہوا، جسے اردو ادب کا ایک نیا باب قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے مزید مجموعے یعنی، لیکن، گویا اور گمان منظرِ عام پر آئے جنہوں نے انہیں اردو شاعری کا منفرد حوالہ بنا دیا۔

جون ایلیا کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ معاشرے نے شاعر کو وہ مقام اور عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی شاعری میں تلخی، ہجر، عشق اور بغاوت کا امتزاج آج بھی قاری کے دل کو چھو جاتا ہے۔

ادبی و شعری حلقوں کے مطابق جون ایلیا کی نثر اور اداریے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اردو ادب کے اس منفرد لہجے کے شاعر 8 نومبر 2002 کو کراچی میں وفات پا گئے، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
جون ایلیا کی شاعری آج بھی زندہ ہے شاید اسی لیے انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کہہ دیا تھا ’’فکر مر جائے تو پھر جون کا ماتم کرنا۔۔۔ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی۔۔‘‘