LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
موسمیاتی اہداف کے ثمرات عوام اور مقامی کمیونٹیز تک پہنچنے چاہیے، وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی بحرینی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق چمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، ایران لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتا: پزشکیان وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں امریکی کاروباری کونسلز کے وفود سے ملاقات امریکا نے شام کو 36 چوری شدہ نوادرات واپس کر دیے اقوام متحدہ کا عالمی امن کیلئے پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف یہ آخری کوشش ہوگی اور پی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی: خواجہ آصف علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کا فیصلہ مؤخر امریکا بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی نیویارک: اسرائیل کیخلاف مظاہرے پر امریکی اداکارہ گرفتار مکہ دفاعی اتحاد کا سعودی سلامتی کیلئے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کا اعلان سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحدی علاقے میں جارحیت ناکام بنادی، کئی طالبان ہلاک ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا، ایرانی صدر چین اور امریکا اپنی عوام کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ

“ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی”، منفرد شاعر جون ایلیا کی 23ویں برسی آج

Web Desk

8 November 2025

بغاوت، تنہائی اور گہرے احساسات کے شاعر جون ایلیا کی 23ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ میں پیدا ہوئے اور اپنی نرالی سوچ اور منفرد اسلوب سے اردو ادب میں ایک الگ پہچان بنائی۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ “شاید“ 1991  میں شائع ہوا، جسے اردو ادب کا ایک نیا باب قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے مزید مجموعے یعنی، لیکن، گویا اور گمان منظرِ عام پر آئے جنہوں نے انہیں اردو شاعری کا منفرد حوالہ بنا دیا۔

جون ایلیا کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ معاشرے نے شاعر کو وہ مقام اور عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی شاعری میں تلخی، ہجر، عشق اور بغاوت کا امتزاج آج بھی قاری کے دل کو چھو جاتا ہے۔

ادبی و شعری حلقوں کے مطابق جون ایلیا کی نثر اور اداریے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اردو ادب کے اس منفرد لہجے کے شاعر 8 نومبر 2002 کو کراچی میں وفات پا گئے، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
جون ایلیا کی شاعری آج بھی زندہ ہے شاید اسی لیے انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کہہ دیا تھا ’’فکر مر جائے تو پھر جون کا ماتم کرنا۔۔۔ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی۔۔‘‘