“ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی”، منفرد شاعر جون ایلیا کی 23ویں برسی آج
Web Desk
8 November 2025
بغاوت، تنہائی اور گہرے احساسات کے شاعر جون ایلیا کی 23ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ میں پیدا ہوئے اور اپنی نرالی سوچ اور منفرد اسلوب سے اردو ادب میں ایک الگ پہچان بنائی۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ “شاید“ 1991 میں شائع ہوا، جسے اردو ادب کا ایک نیا باب قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے مزید مجموعے یعنی، لیکن، گویا اور گمان منظرِ عام پر آئے جنہوں نے انہیں اردو شاعری کا منفرد حوالہ بنا دیا۔
جون ایلیا کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ معاشرے نے شاعر کو وہ مقام اور عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی شاعری میں تلخی، ہجر، عشق اور بغاوت کا امتزاج آج بھی قاری کے دل کو چھو جاتا ہے۔
ادبی و شعری حلقوں کے مطابق جون ایلیا کی نثر اور اداریے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اردو ادب کے اس منفرد لہجے کے شاعر 8 نومبر 2002 کو کراچی میں وفات پا گئے، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
جون ایلیا کی شاعری آج بھی زندہ ہے شاید اسی لیے انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کہہ دیا تھا ’’فکر مر جائے تو پھر جون کا ماتم کرنا۔۔۔ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی۔۔‘‘
متعلقہ عنوانات
پنجاب فلم سٹی اتھارٹی تشکیل دینے کا بل کثرت رائے سے منظور
30 April 2026
علی ظفر اور میشا شفیع ایک بار پھر آمنے سامنے، عدالت میں اپیل دائر
30 April 2026
حنا طارق نے عورتوں کا ’فیمنسٹ‘ ہونا لعنت قرار دے دیا
30 April 2026
ہانیہ عامر عاصم اظہر کے نام کا ماسک پہن کر کنسرٹ پہنچ گئیں
29 April 2026
صحیفہ جبار نے لباس پر تنقید کرنے والوں کو حیران کن جواب دے دیا
29 April 2026
ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس، ملزم کی ٹرائل منتقلی کی درخواست مسترد
29 April 2026
منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے 50 سال بیت گئے
29 April 2026
اللہ کا واسطہ ہے کراچی کی سڑکیں ٹھیک کردیں،شگفتہ اعجاز حکمرانوں پر برس پڑیں
28 April 2026