LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی

“ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی”، منفرد شاعر جون ایلیا کی 23ویں برسی آج

Web Desk

8 November 2025

بغاوت، تنہائی اور گہرے احساسات کے شاعر جون ایلیا کی 23ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ میں پیدا ہوئے اور اپنی نرالی سوچ اور منفرد اسلوب سے اردو ادب میں ایک الگ پہچان بنائی۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ شاید 1991  میں شائع ہوا، جسے اردو ادب کا ایک نیا باب قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے مزید مجموعے یعنی، لیکن، گویا اور گمان منظرِ عام پر آئے جنہوں نے انہیں اردو شاعری کا منفرد حوالہ بنا دیا۔

جون ایلیا کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ معاشرے نے شاعر کو وہ مقام اور عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کی شاعری میں تلخی، ہجر، عشق اور بغاوت کا امتزاج آج بھی قاری کے دل کو چھو جاتا ہے۔

ادبی و شعری حلقوں کے مطابق جون ایلیا کی نثر اور اداریے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اردو ادب کے اس منفرد لہجے کے شاعر 8 نومبر 2002 کو کراچی میں وفات پا گئے، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
جون ایلیا کی شاعری آج بھی زندہ ہے شاید اسی لیے انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کہہ دیا تھا ’’فکر مر جائے تو پھر جون کا ماتم کرنا۔۔۔ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی۔۔‘‘