سائنسدان 3 لاکھ 15 ہزار سال قدیم انسان کا ڈیجیٹل چہرہ تشکیل دینے میں کامیاب
Web Desk
1 October 2026
سائنسدانوں نے مراکش سے ملنے والے 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے ابتدائی ہومو سیپینز (قدیم انسان) کا چہرہ جدید 3D ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ تشکیل دے دیا ہے، جس سے انسانی ارتقاء اور قدیم انسانوں کی حلیہ و ساخت کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سائنسی جریدے ‘ہیرٹیج’ میں شائع تحقیق کے مطابق چہرے کی یہ تشکیلِ نو 1960ء کی دہائی میں مراکش کے تاریخی مقام جبل اِرہود (Jebel Irhoud) سے برآمد ہونے والے فوسل ‘اِرہود 1’ اور دیگر متعلقہ باقیات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے کھوپڑی کو ڈیجیٹل طور پر مکمل کرنے کے بعد جدید انسانوں کے سی ٹی سکینز اور افریقی آبادی کے نرم بافتوں (Soft Tissues) کا موازنہ کرتے ہوئے چہرے کی دو شکلیں تیار کی ہیں؛ ایک سیاہ و سفید بلا بال اور دوسری میں جلد کی رنگت اور داڑھی کے ممکنہ عناصر شامل کیے گئے ہیں۔ تحقیق سے انکشاف ہوا کہ 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے اس انسان کے دماغ کی گنجائش 1,364 ملی لیٹر تھی جو جدید انسان کی ساخت سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ 2017ء کی جدید ڈیشنگ تحقیق سے قبل ان فوسلز کو نیئنڈرتھل سمجھا جاتا تھا، تاہم اس پیش رفت نے ثابت کیا ہے کہ ہومو سیپینز کا ارتقاء افریقہ کے مختلف خطوں میں بیک وقت ہوا تھا۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026