LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا ارکان اسمبلی کی سکیورٹی واپس لینے پر اظہار تشویش، آئی جی کو مراسلہ ارسال کردیا پی ٹی آئی نے گورنر ہاؤس پر چڑھائی کی تو غیر قانونی اقدام کے جرم میں سہیل آفریدی کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے: فیصل کریم کنڈی فلوریڈا میں سمندری طوفان سے تباہی، 2 افراد ہلاک، 8 لاکھ صارفین بجلی سے محروم یوکرینی علاقے پر روسی حملے: 3 بچوں سمیت 20 افراد ہلاک، 18 زخمی حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد سعودی عرب کا فلائٹ آپریشن شدید متاثر بارش، آندھی اور طوفان کا خدشہ، پنجاب میں کا الرٹ جاری کردیا سال کے آغاز کے مقابلے میں پٹرول 145، ڈیزل 139 روپے مہنگا ہوا ملک کی معاشی ترقی کیلیے موثر اقدامات کی ضرورت، احسن اقبال کراچی، عمرہ زائرین اور بین الاقوامی مسافروں کی ویکسی نیشن شروع بغیر کھڑکیوں والا حیرت انگیز جدید مسافر طیارے کی تیاری پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان پیرس میں بچوں کے جنسی استحصال نیٹ ورک, بھارتی شہری کو 20 سال قید اسلام آباد؛ طالبہ کو فراڈ سے موت کے منہ میں پہنچانے والا ملزم گرفتار، مقدمہ بھی درج آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکراگیا؛ خوفناک آگ بھڑک اُٹھی مولانا فضل الرحمان کا وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی سے رابطہ

پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان

Web Desk

2 October 2026

سپارکو (SUPARCO) نے پاکستان کی پہلی چاند گاڑی “جناح ون” (Jinnah-1) کی سطحِ چاند پر لینڈنگ کی حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ ورلڈ سپیس ویک کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سپارکو یوسف خان نے بتایا کہ پاکستان خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے خود انحصاری کی طرف گامزن ہے اور ملک کی پہلی چاند گاڑی 2028 میں چاند پر اترے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب یورپی یا چینی سیٹلائٹس پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی خلائی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے۔

چیئرمین سپارکو نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جنوری 2025 میں پاکستان نے اپنا سیٹلائٹ “ای ون” خلا میں بھیجا تھا، جس کے بعد جولائی اور اکتوبر 2025 میں مزید دو سیٹلائٹس بھیجے گئے۔ اس وقت پاکستان کے 6 ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس خلا میں فعال ہیں جو زراعت، شہری منصوبہ بندی، انٹرنیٹ و ٹی وی کوریج کی توسیع اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خلائی پروگرام کی یہ پیش رفت ملک میں سپیس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو رہی ہے۔