LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی 40 روزہ جنگ کے دوران 3519 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار

انسانی دماغ زندگی میں 5 اہم تبدیلیوں کے مراحل سے گزرتا ہے

Web Desk

26 November 2025

کیمرج یونیورسٹی کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ انسانی دماغ پوری زندگی کے دوران پانچ نمایاں مراحل سے گزرتا ہے جن کے اہم موڑ تقریباً 9، 32، 66 اور 83 سال کی عمر میں آتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق تقریباً چار ہزار افراد (عمر 90 سال تک) کے دماغی اسکینز کا تجزیہ کیا گیا تاکہ سمجھا جا سکے کہ دماغی خلیوں کے درمیان رابطے کس طرح بدلتے ہیں،مطالعے سے ظاہر ہوا کہ دماغ اپنی ’نوجوانی‘ کی حالت میں تقریباً 3 دہائی تک رہتا ہے، جب ہم اپنے ’عروج‘ پر پہنچتے ہیں یہ نتائج اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ زندگی کے مختلف مراحل میں ذہنی صحت کے مسائل اور ڈیمنشیا کے خطرات کیوں مختلف ہوتے ہیں؟تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ یہ تبدیلیاں پیدائش سے بڑھاپے تک یکساں رفتار سے نہیں ہوتیں، ادراک اور دماغی رابطوں کی تشکیل پانچ مرحلوں میں ہوتی ہے، بی بی سی سے گفتگو میں ڈاکٹر ایلکسا موسلے نے بتایا کہ دماغ مسلسل رابطوں کو اپ ڈیٹ کرتا ہے، کبھی تقویت دیتا ہے تو کبھی کمزور کرتا ہے اور یہ عمل ایک مستقل رفتار نہیں رکھتا، اس کے مختلف اتار چڑھاؤ اور مرحلے ہوتے ہیں۔محققین کے مطابق اگرچہ کچھ افراد ان اہم مرحلوں تک مختلف عمر میں پہنچ سکتے ہیں، لیکن بڑے ڈیٹا سیٹ میں یہ مراحل انتہائی واضح نظر آئے جسے جریدےنیچر کمیونیکیشنزمیں شائع کیا گیا۔تحقیق میں مرد و خواتین کا الگ تجزیہ نہیں کیا گیا جس کے باعث بعض سوالات مثلاً مینوپاز کا اثر ابھی تحقیق کے لیے باقی ہیں۔کیمرج یونیورسٹی کے نیورو انفارمیٹکس کے پروفیسر ڈنکن ایسٹل نے کہا کہ دماغی روابط میں فرق توجہ، زبان، یادداشت اور رویوں سے متعلق مسائل کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔