LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایم ٹی آنر 25 کے مزید 3 پاکستانی کریو ارکان بھی وطن واپس روانہ سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ

21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ

Web Desk

24 August 2026

دنیا بھر کے 21 سابق ٹیسٹ و بین الاقوامی کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے سابق پاکستانی کپتان اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے آزادانہ طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ کیا ہے۔ کرکٹ ویب سائٹ ‘کرک انفو’ کے مطابق سابق کپتانوں نے خط میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق عمران خان، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی بینائی کی صورتحال کے لیے ایک آزاد میڈیکل بورڈ کے قیام اور ہفتہ وار خاندانی ملاقاتوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ خط پر مائیکل ایتھرٹن، ایلن بارڈر، سنیل گواسکر، ایڈم گلکرسٹ اور کپل دیو سمیت نامور کرکٹرز کے دستخط موجود ہیں، جنہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد داخلی امور میں مداخلت نہیں بلکہ اپنے سابق حریف و ساتھی کی صحت پر تشویش کا اظہار ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل اور شفاف طریقے سے عملدرآمد کرتے ہوئے تمام قانونی اور طبی تقاضے پورے کیے ہیں۔