LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے امریکا کا ایران کی بحری ناکہ بندی میں مزید 20 تجارتی جہاز واپس موڑنے کا دعویٰ امریکن ریڈ کراس کا خون کے ذخائر کی دوسری قومی سطح کی قلت کا اعلان کیئیکو فوجیموری نے پیرو کی صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا امریکی فوج کا لاک ہیڈ مارٹن کیساتھ انٹر سیپٹر میزائلز کی تیاری کیلئے 58.6 ارب ڈالر کا معاہدہ چین نے امریکا کی جانب سے تحقیقاتی اداروں پر عائد پابندیوں کی مخالفت کر دی سائبر فراڈ کے مراکز میں کام کیلئے لوگوں کو ورغلانے کے رجحان میں اضافہ ہوا: اقوام متحدہ سعودی وزیر دفاع کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران سے کشیدگی میں کمی کا اعادہ

اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کی سماعت

Web Desk

7 January 2026

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کو بطور گواہ عدالت طلب کرنے کی درخواست پر تفصیلی دلائل دیے گئے۔ سماعت جج افضل مجوکا نے کی۔

دورانِ سماعت ہادی علی چٹھہ نے مؤقف اختیار کیا کہ چھ جنوری کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں ملزمہ ایمان مزاری کا ٹوئٹر ہینڈل میڈیا پر دکھایا اور یہ تاثر دیا گیا کہ وہ دہشت گردوں کی تشہیر اور حمایت کرتی ہیں، لہٰذا ڈی جی آئی ایس پی آر اس کیس میں اہم گواہ ہیں اور انہیں عدالت بلایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ڈی جی آئی ایس پی آر بطور ترجمانِ افواجِ پاکستان بات کرتے ہیں، اس لیے وہ عام شخص نہیں اور ان کے بیان کا کیس پر اثر پڑتا ہے۔

ایمان مزاری نے بھی عدالت میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا مخصوص حصہ چلا کر دکھایا اور کہا کہ ان کی ٹویٹ پریس کانفرنس میں دکھائی گئی اور انہیں دہشت گردوں کا حامی قرار دیا گیا، اس لیے ڈی جی آئی ایس پی آر کو پریس کانفرنس کے بجائے عدالت میں آکر اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہیے۔

اس موقع پر جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ “کیا جو بھی اس کیس کے بارے میں بات کرے گا، عدالت اسے طلب کر لے گی؟” عدالت نے واضح کیا کہ پراسیکیوشن کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی مخصوص شخص کو بطور گواہ پیش کرے یا نہ کرے۔

پراسیکیوٹر نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو عدالت بلانے کی درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پریس کانفرنس میں کہیں بھی ایمان مزاری کا نام نہیں لیا گیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو اس کیس میں طلب نہیں کیا جا سکتا۔

بعد ازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے قرار دیا کہ گواہان کو طلب کرنے کا مرحلہ ملزمان کے دفعہ 342 کے بیانات کے وقت آئے گا۔ عدالت کے مطابق 342 کے بیان کے وقت ہی یہ دیکھا جائے گا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ بلانے کی درخواست متعلقہ اور قابلِ سماعت ہے یا نہیں، تب تک یہ درخواست زیرِ التوا رہے گی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی، جبکہ آئندہ سماعت پر ایمان مزاری کی جانب سے گواہ شہروز ریاض پر جرح کی جائے گی۔