گوگل کا 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کا منصوبہ تیار
Web Desk
1 June 2026
کیلیفورنیا: دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی ’گوگل‘ نے خطرناک بیماریوں کے خاتمے اور مچھروں کی افزائشِ نسل کو روکنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں خصوصی طور پر تیار کردہ مچھر چھوڑنے کا ایک منفرد اور بڑا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گوگل نے امریکی وفاقی ریگولیٹرز سے ملک کی دو اہم ریاستوں، کیلیفورنیا اور فلوریڈا کے منتخب حصوں میں 3 کروڑ 20 لاکھ خصوصی مچھر چھوڑنے کی باقاعدہ اجازت مانگ لی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ان مخصوص مچھروں کی نسل کو نشانہ بنانا اور انہیں ختم کرنا ہے جو انسانوں میں جان لیوا بیماریاں پھیلانے کے ذمہ دار ہیں، اور اس کے لیے خاص طور پر ان علاقوں کا انتخاب کیا جائے گا جہاں ماضی میں بیماری پھیلنے کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
محققین کی جانب سے وضع کردہ حکمتِ عملی کے تحت ان کروڑوں مچھروں کو یکدم آزاد نہیں کیا جائے گا:
-
آہستہ آہستہ منتقلی: مچھروں کو دو سال کے عرصے کے دوران مرحلہ وار اور آہستہ آہستہ چھوڑا جائے گا تاکہ ماہرین حاصل ہونے والے نتائج کی باریکی سے نگرانی کر سکیں۔
-
حکمتِ عملی میں لچک: مانیٹرنگ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور نتائج کی روشنی میں کمپنی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں بھی کرتی رہے گی۔
-
افزائشِ نسل کا خاتمہ: ان مچھروں کو لیبارٹری میں اس سائنسی انداز سے تیار کیا جائے گا کہ یہ بیماریاں آگے پھیلانے کے قابل نہیں رہیں گے، جس سے نہ صرف بیماریاں پھیلنے کی شرح گرے گی بلکہ مچھروں کی افزائشِ نسل (Breeding) کا سلسلہ بھی ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے گا۔
کیلیفورنیا اور فلوریڈا کا انتخاب خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں امریکی ریاستوں میں مچھروں کی بھرمار اور ان سے جنم لینے والی بیماریوں کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے۔
میڈیا رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی وفاقی حکام اور ریگولیٹرز کی حتمی منظوری کے بغیر یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ریگولیٹرز اس منصوبے کی اجازت دینے سے قبل اس بات کا گہرا جائزہ لیں گے کہ آیا اس پروگرام کے عوامی صحت کو پہنچنے والے فائدے، مقامی ماحول کو ہونے والے کسی بھی ممکنہ خطرے سے زیادہ ہیں یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے مچھروں کے حفاظتی ریکارڈ، ماحولیاتی اثرات کی رپورٹس اور نگرانی کے طریقوں کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
حکام یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ یہ پروگرام مقامی ماحولیاتی نظام (Ecosystem) کو نقصان پہنچائے بغیر بیماریوں کو محفوظ طریقے سے کم کر سکتا ہے یا نہیں۔ اگر گوگل کو اس کی منظوری مل جاتی ہے، تو وہ مچھروں کو چھوڑنے کے بعد اگلے دو سال تک مسلسل ڈیٹا اکٹھا کرے گا تاکہ اس انقلابی اقدام کی اصل افادیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
گوگل کی یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر محققین مچھروں کے رویے اور ان پر قابو پانے کے طریقوں پر مسلسل سائنسی تحقیق کر رہے ہیں۔
سائنسی جرنل کی رپورٹ: ‘جرنل آف ایکسپریمنٹل بائیولوجی’ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تجرباتی تحقیق سے یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مچھر عام طور پر گھروں میں استعمال ہونے والے مچھر بھگانے والے اسپرے (Mosquito Repellent Spray) کی خوشبو سے ڈرنے کے بجائے، الٹا اس خوشبو کو اپنے لیے خوراک کے ایک ذریعے (Food Source) کے طور پر یاد رکھنا سیکھ سکتے ہیں، جو کہ مستقبل میں مچھروں پر قابو پانے کی روایتی مہمات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ریموٹ سے چلنے والا دنیا کا سب سے بڑا کاغذی طیارہ
1 June 2026
کیا آپ 30 سیکنڈ میں تصویر کی چھپی غلطی ڈھونڈ سکتے ہیں؟
30 May 2026
گالف کی گیندوں سے بنا دنیا کا سب سے بڑا اہرام
30 May 2026
تھائی لینڈ: منشیات فروش کو پکڑنے کے لئے پولیس کا انوکھا اقدام
29 May 2026
دنیا کا معمر ترین ’ونگ واکر‘
29 May 2026
بھارت: دنیا بھر سے مختلف قسم کے پیپر کپ جمع کرنے کا ریکارڈ
28 May 2026
98سالہ برطانوی شہری نے فضائی کرتب کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا
27 May 2026
چین: نمک اور آئینوں سے سستی بجلی بنانے کی نئی ٹیکنالوجی متعارف
26 May 2026