LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ: تلاش کے لیے بحری و فضائی آپریشن تیز، کراچی میں ایئرلائن کے دفاتر سیل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہم منصب سے ملاقات، انسداد منشیات اور پولیس ٹریننگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا 85 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا، جھکیں گے نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ تیل فروخت کا ایرانی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ پاسداران انقلاب کا امریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان امریکا کے ایران پر حملہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری امریکہ: ہیوسٹن میں امیگریشن حکام کی فائرنگ، گاڑی افسر پر چڑھانے کی کوشش کرنے والا ملزم ہلاک معاہدۂ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا خدشہ پاکستان کے لیے عالمی اعزاز: پاکستانی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں بین الاقوامی تنظیم کی صدر منتخب امریکہ کا ایران پر باقاعدہ فوجی حملہ، متعدد شہر دھماکوں سے گونج اٹھے، عالمی منڈی میں تیل مہنگا حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا گیا، امریکی حکام واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی ختم کر کے مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران سعودی عرب نے بھی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کر دیا ائیل ٹینکروں پر حملہ: امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت انتہائی خطرناک قرار دیدی

گوگل کا 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کا منصوبہ تیار

Web Desk

1 June 2026

کیلیفورنیا: دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی ’گوگل‘ نے خطرناک بیماریوں کے خاتمے اور مچھروں کی افزائشِ نسل کو روکنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں خصوصی طور پر تیار کردہ مچھر چھوڑنے کا ایک منفرد اور بڑا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گوگل نے امریکی وفاقی ریگولیٹرز سے ملک کی دو اہم ریاستوں، کیلیفورنیا اور فلوریڈا کے منتخب حصوں میں 3 کروڑ 20 لاکھ خصوصی مچھر چھوڑنے کی باقاعدہ اجازت مانگ لی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ان مخصوص مچھروں کی نسل کو نشانہ بنانا اور انہیں ختم کرنا ہے جو انسانوں میں جان لیوا بیماریاں پھیلانے کے ذمہ دار ہیں، اور اس کے لیے خاص طور پر ان علاقوں کا انتخاب کیا جائے گا جہاں ماضی میں بیماری پھیلنے کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

محققین کی جانب سے وضع کردہ حکمتِ عملی کے تحت ان کروڑوں مچھروں کو یکدم آزاد نہیں کیا جائے گا:

  • آہستہ آہستہ منتقلی: مچھروں کو دو سال کے عرصے کے دوران مرحلہ وار اور آہستہ آہستہ چھوڑا جائے گا تاکہ ماہرین حاصل ہونے والے نتائج کی باریکی سے نگرانی کر سکیں۔

  • حکمتِ عملی میں لچک: مانیٹرنگ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور نتائج کی روشنی میں کمپنی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں بھی کرتی رہے گی۔

  • افزائشِ نسل کا خاتمہ: ان مچھروں کو لیبارٹری میں اس سائنسی انداز سے تیار کیا جائے گا کہ یہ بیماریاں آگے پھیلانے کے قابل نہیں رہیں گے، جس سے نہ صرف بیماریاں پھیلنے کی شرح گرے گی بلکہ مچھروں کی افزائشِ نسل (Breeding) کا سلسلہ بھی ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے گا۔

کیلیفورنیا اور فلوریڈا کا انتخاب خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں امریکی ریاستوں میں مچھروں کی بھرمار اور ان سے جنم لینے والی بیماریوں کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے۔

میڈیا رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی وفاقی حکام اور ریگولیٹرز کی حتمی منظوری کے بغیر یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ریگولیٹرز اس منصوبے کی اجازت دینے سے قبل اس بات کا گہرا جائزہ لیں گے کہ آیا اس پروگرام کے عوامی صحت کو پہنچنے والے فائدے، مقامی ماحول کو ہونے والے کسی بھی ممکنہ خطرے سے زیادہ ہیں یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے مچھروں کے حفاظتی ریکارڈ، ماحولیاتی اثرات کی رپورٹس اور نگرانی کے طریقوں کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔

حکام یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ یہ پروگرام مقامی ماحولیاتی نظام (Ecosystem) کو نقصان پہنچائے بغیر بیماریوں کو محفوظ طریقے سے کم کر سکتا ہے یا نہیں۔ اگر گوگل کو اس کی منظوری مل جاتی ہے، تو وہ مچھروں کو چھوڑنے کے بعد اگلے دو سال تک مسلسل ڈیٹا اکٹھا کرے گا تاکہ اس انقلابی اقدام کی اصل افادیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

گوگل کی یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر محققین مچھروں کے رویے اور ان پر قابو پانے کے طریقوں پر مسلسل سائنسی تحقیق کر رہے ہیں۔

سائنسی جرنل کی رپورٹ: ‘جرنل آف ایکسپریمنٹل بائیولوجی’ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تجرباتی تحقیق سے یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مچھر عام طور پر گھروں میں استعمال ہونے والے مچھر بھگانے والے اسپرے (Mosquito Repellent Spray) کی خوشبو سے ڈرنے کے بجائے، الٹا اس خوشبو کو اپنے لیے خوراک کے ایک ذریعے (Food Source) کے طور پر یاد رکھنا سیکھ سکتے ہیں، جو کہ مستقبل میں مچھروں پر قابو پانے کی روایتی مہمات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔