LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف

تھرپارکر: لوک فنکارہ مائی فاطمہ 71 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

Web Desk

14 March 2026

صحرائے تھر کی ثقافت اور لوک موسیقی کی پہچان، معروف فنکارہ مائی فاطمہ 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ طویل عرصے سے جگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں اور جانبر نہ ہو سکیں۔ مائی فاطمہ نے اپنی زندگی کی سات دہائیاں فنِ موسیقی کی خدمت میں گزاریں اور تھر کے ریگزاروں کی آواز کو عالمی سطح پر روشناس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لسانی مہارت: مائی فاطمہ نے سندھی، مارواڑی اور سرائیکی زبانوں میں لوک گیت گا کر اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔
عوامی مقبولیت: ان کے گائے ہوئے گیت نہ صرف سندھ بلکہ سرحد پار اور سرائیکی بیلٹ میں بھی یکساں مقبول تھے۔ ان کی آواز میں صحرا کی تڑپ اور ثقافت کی مہک رچی بسی تھی۔ثقافتی نقصان: ان کے انتقال پر فنونِ لطیفہ سے وابستہ حلقوں اور تھر کے عوام میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اسے سندھی لوک موسیقی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔