LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز مشہور گیم سٹک رن کے بانی مینوئل اوٹو نے لائیو سٹریم کے دوران خودکشی کر لی پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، سمگلنگ روکنے کیلئے کڑی نگرانی کا حکم سعودی عرب پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا پاکستان اور کینیڈا کے طبی اداروں میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط طبی معائنے کے بعد نواز شریف وطن واپس، جاتی امراء روانگی چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش شوہر نے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو کرسی سے باندھ دیا بلوچستان کے شہر دالبندین اور ملحقہ علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ امریکی صدر ٹرمپ نے جلد ہی ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دے دیا نیویارک انتخابات: ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ 24 اکتوبر، All About USA کی جانب سے رہنما ووٹر گائیڈ جاری نیویارک میں سینٹرل پارک کی تاریخی بگھیوں پر پابندی کا بل منظور، 2028 میں صنعت کا خاتمہ ہوگا کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید سعودی معیشت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات فی الحال محدود ہیں، آئی ایم ایف

تھرپارکر: لوک فنکارہ مائی فاطمہ 71 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

Web Desk

14 March 2026

صحرائے تھر کی ثقافت اور لوک موسیقی کی پہچان، معروف فنکارہ مائی فاطمہ 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ طویل عرصے سے جگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں اور جانبر نہ ہو سکیں۔ مائی فاطمہ نے اپنی زندگی کی سات دہائیاں فنِ موسیقی کی خدمت میں گزاریں اور تھر کے ریگزاروں کی آواز کو عالمی سطح پر روشناس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لسانی مہارت: مائی فاطمہ نے سندھی، مارواڑی اور سرائیکی زبانوں میں لوک گیت گا کر اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔
عوامی مقبولیت: ان کے گائے ہوئے گیت نہ صرف سندھ بلکہ سرحد پار اور سرائیکی بیلٹ میں بھی یکساں مقبول تھے۔ ان کی آواز میں صحرا کی تڑپ اور ثقافت کی مہک رچی بسی تھی۔ثقافتی نقصان: ان کے انتقال پر فنونِ لطیفہ سے وابستہ حلقوں اور تھر کے عوام میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اسے سندھی لوک موسیقی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔